Rishte chahte ke
قسط 4
افرا اور واسع بھائی کی بیوی شمع بھابھی کچن میں کھڑی باتیں کر رہی تھیں۔
اچانک انہیں لاونج سے کچھ شور کی آواز سنائی دی۔ تو وہ دونوں آگے پیچھے لاونج کی طرف بڑھیں۔
لاونج کا منظر دیکھ کر دونوں ہکا بکا رہ گئیں۔
عجیب و غریب قسم کا نظارہ تھا
صارم مسلسل بھنگڑا ڈالنے میں مصروف تھا اور معیز پاگلوں کی طرح تالیاں پیٹ رہا تھا۔
ہر دو سیکنڈ کے بعد رک کر کہتا مجھے کوئی نہ روکے ،مجھے کوئی نہ روکے اور پھر دوبارہ بھنگڑا ڈالنا شروع ہوجاتا۔
برابر والے صوفے پر واسع بھائی اور زعیم بیٹھے تھے اور دونوں ہنس ہنس کر پاگل ہو رہے تھے۔
تو ناچ میرے بھائی!کوئی مائی کا لعل تجھے نہیں روکے گا۔زعیم نے صارم کو پچکارا
یہ کیا ہو رہا ہے؟
صارم نے بھنگڑا ڈالنا ترک کرکے شمع بھابھی کو دیکھا اور جمپ لگا کر انکے پاس پہنچا
صارم نے انکا ہاتھ پکڑا اور انکو بھی اپنے ساتھ بھنگڑے میں شامل کر نے لگا
ہوا کیا ہے؟شمع بھابھی اب ہنستے ہوئے بولیں
آج وہ ہوا ہے جس کے بارے میں سن کر میرا دل باغ باغ ہو گیا ہے۔صارم نے کہا
زعیم تم بتاو؟کیا ہو ہے؟شمع بھابی نے اپنا رخ زعیم کی طرف کرتے ہوئے کہا
یہ میرے معصوم بھائی کیسے بتائیں گے اتنی خوشی کی بات؟صارم نے کہا
ان سے دردناک باتیں پوچھا کریں۔بہت اچھے طریقے سے بتائیں گے۔
معیز نے لقمہ دیا
زعیم نے کشن اٹھا کر معیز کو مارا جسے اسنے کیچ کر لیا۔اور پھر اٹھ کھڑا ہوا۔
ہاں تو بھابھی میں اپنے تازہ کلام کے زریعے یہ بتاونگا کہ بھنگڑا کیوں ڈالا جارہا ہے۔
آپ سب صوفوں پر براجمان رہیں اور دل کو تھامیں رکھیں۔اور میرا تازہ کلام سنیں۔
ہاں تو کلام یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی وہ بول ہی رہا تھا کہ صارم نے اسکے منہ کے آگے چپل اسطرح سے پکڑی جیسے مائیک پکڑا جاتا ہے۔
معیز پہلے تو چپل کو گھورتا رہا اور پھر اسے مائیک کی طرح تھام کر اپنا کلام سنانے لگا
کچھ لوگ فیل ہوئے ہیں
واہ واہ ۔۔۔یہ آواز صارم کی تھی ۔
بڑے دردناک طریقے سے فیل ہوئے ہیں۔
معیز نے اگلی لائن بولی
افرا شاک کی کیفیت میں کھڑی یہ سن رہی تھی کیونکہ وہی فیل ہوئی تھی لیکن اسنے کسی کو بھی نہیں بتایا تھا۔
معیز دوبارہ بولا
کچھ لوگ فیل ہوئے ہیں
بڑے دردناک طریقے سے فیل ہوئے ہیں
ٹیچروں نے کچھ ایسا غصہ نکالا ہے
ہمارے بھی دلوں کو باغوں باغ کیا ہے
پہلے جو ہوتے تھے ایک نمبر سے فیل
اس دفعہ تو یہ ریکارڈ بھی ٹوٹے ہیں
غم نہ کرو لوگوں
یہ دن تو آنے جانے ہیں
کچھ لوگ فیل ہوئے ہیں
بڑے دردناک طریقے سے فیل ہوئے ہیں
ابھی وہ سنا ہی رہا تھا کہ افرا نے چپل اٹھا کر اسے ماری
تمہیں شرم نہیں آتی دوسروں کی چیزوں کو چھیڑتے ہوئے؟افرا نے کہا
میں نے کب چیزیں چھیڑیں ہیں آپکی؟
میں نے اپنی sourceکے زریعے آپکے فیل ہونے کا پتہ لگایا ہے۔
معیز نے کہا
تم اس رفعہ بھی فیل ہوئی ہو؟شمع بھابھی نے اپنا رخ افر کی طرف کرتے ہوئے کہا
مجھ سے نہیں پڑھا جاتا بھابھی۔اسنے انہیں جواب دیا
اسکا جواب سن کر وہاں بیٹھے سب ہی لوگوں کی ہنسی چھو ٹ گئی۔
کیونکہ سب کو ہی معلوم تھا کہ افرا جتنا پڑھائی سے بھاگتی ہے تائی امی اتنا ہی چاہتی ہیں کہ وہ سائنس کے ہی کسی مضمون میں ماسٹرز کرے۔لیکن یہاں اسکے سیکنڈ ائیر بھی پاس کرنے کے چانسز نظر نہیں آرہے تھے۔
ابھی یہ باتیں چل ہی رہیں تھیں کی خالدہ بیگم بی جان کے ساتھ لاونج میں داخل ہوئیں
آپ کو آج کی بریکنگ نیوز معلوم ہوئی؟معیز نے بی جان سے کہا
نہیں بچے۔بی جان نے کہا
کیا ہوا ہے؟افرا کی مما خالدہ بیگم نے پوچھا
مما مما ۔۔میری پیاری مما ۔آپکی بیٹی شان دار طریقے سے فیل ہوئی ہے۔معیزنےسر دھنتے ہوئے کہا
کیا؟خالدہبیگم شال کی کیفیت میں آئیں
اس دفعہ پھر؟خالدہ بیگم نے افرا کی طرف دیکھتے ہوئےکہا
ایک دفعہ ہو
دودفعہ ہو
یہ ہونے کی چیز ہے
بار بار ہو
صارم نے گنگناتے ہویے کہا
جس پر خالدہ بگم نے اسے گھورا
میں نے کہا بھی تھاکہ مجھے آرٹس لینے دیں.آپنے ایک نہ سنی اور اب میں فیل ہو رہی ہو تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔افرا نے کہا
تم! خالدہ بیگم نے افرا کو کچھ بولنا چاہا تو گل بیبی نے ٹوک دیا۔
بچی ٹھیک کہ رہی ہے اگر اسکی دلچسپی آرٹس میں تھی تو آرٹس لینے دیتیں۔
تمھاری زبردستی کی وجہ سے اسنے سائنس لی لیکن کیا فائدہ فیل ہو رہی ہے۔
لیکن بی جان !آپ دیکھیں تو سہی کہ سائنس کی ویلیو ہے آج کل۔خالدہ بیگم نے کہا
ہوگی۔لیکن ہر مضمون کسی نہ کسی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔آرٹس لیکر بھی لوگ کامیاب ہو جاتے ہیں ۔بات یہ ہے کہ جو کام بھی خوشی سے کیا جائے اس میں کامیابی ملتی ہے۔اگر اسے آرٹس پڑھنے میں دلچسبی تھی تو اسے لینے دیتی۔اور اب بچی کو مزید نہ ڈانٹنا۔گل بی بی نے کہا
اور افرا بچے تم سپلی کی تیاری کرو ۔آگے جو دل چاہے لے لینا لیکن اسکو کلیئر کرو۔انہوں نے جیسے بات ختم کرتے ہوئے کہا
جی گل بی بی ! افرا نے کہا
جبکہ خالدہ بیگم اسے گھورتی رہیں۔
انہیں رہ رہ کر یہ خیال آرہا تھا کہ وہ اپنے میکے میں کیا بتائیں گیں کہ انکی بیٹی اتنی نالائق ہے کہ فیل ہو گئی ہے۔
وہ اپنے زمانے میں اپنی تمام کزنز سے پڑھائی میں آگے رہیں تھیں اور انہی کی بیٹی سب سے زیادہ نا لائق تھی۔
۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔
تم آنے دو اپنے باپ کومیں کہونگی کہ دو بول پڑھا کر تمہیں رخصت کریں۔پڑھائی میں تمھارا دل نہیں لگتا۔خالدہ بیگم نے تپتے ہوئے کہا
مما!آپ یہ سب نہ بولیں۔مجھے کیمسٹری نہیں آتی سمجھ تو میں کیا کرو؟افرا نے روہانسے ہوتے ہوئے کہا
اس وقت افرا اپنی مما کے کمرے میں بیٹھی انکی ڈانٹ سن رہی تھی کہ کمرے میں جہانزیب خان داخل ہوئے۔
انہوں نے افرا کی روتی شکل دیکھ کر کہا
کیا ہوا؟انہوں نے پوچھا
آپکی بیٹی اس دفعہ پھر فیل ہوئی ہے۔خالدہ بیگم نے کہا
بابا!مجھ سے نہیں پڑھی جاتی سائنس۔میں نے مما کو اس وقت بھی منع کیا تھا لیکن مما نہیں مانی۔اور اب ڈانٹ رہی ہیں۔افرا نے روتے ہوئے کہا
اچھا بیٹے جاو آپ اپنے روم میں۔جہانزیب خان نے افرا کو کہا تو وہ خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
اسکے جانے کے بعد وہ خالدہ بیگم کی طرف مڑے۔
آپ نے ہی اسے سر پر چڑھا رکھا ہے۔لوگوں کی بیٹیاں بھی ہیں اتنے مشکل مضامین میں ٹاپ کرتیں ہیں۔
ایک میری بیٹی ہے سیکنڈ ائیر اس سے کلیئر نہیں ہو رہا۔خالدہ بیگم نے کہا
بیگم صاحبہ !مزاج بخیر رکھو ۔آپنے اس وقت اسے زبردستی سائنس دلوائی۔اسکی دلچسپی نہیں تھی سائنس میں آپ نے اپنی مرضی اس پر سوار کی ۔اب اگر وہ فیل ہو رہی ہے تو آپ کیوں اسے بلیم کر رہی ہیں؟جہانزیب خان نے انہیں آئینہ دکھاتے ہوئے کہا
میں اسکی دشمن تھوڑی ہوں اسکے فائدے کیلئے دلوائی تھی سائنس۔خالدہ بیگم نے کہا
میں کب کہ رہا ہوں کہ آپ اسکی دشمن ہیں؟میں یہ کہہ رہا ہوں کہ آپ نے اپنی واہ واہ کے لئے اسے سائنس دلوائی ہے۔
آپ یہ کیوں نہیں مانتیں کہ ہر انسان میں انفرادی صلاحیت ہوتی ہے۔جہانزیب خان نے کہا
آپ مجھے کہ رہے ہیں کہ میں نے دکھاوے کے لئے یہ سب کیا ہے؟اگر کیا ہے تو کیا غلط ہے؟خالدہ بیگم نے کہا
آپ کو اب بھی اس میں کوئی غلط بات نظر نہیں آتی؟اسکو وہ پڑھنے دیں جو وہ پڑھنا چاہتی ہے اس پر زبردستی نہ کریں۔جہانزیب خان نے بات ختم کرتے ہوئے کہا
ہاں سب کو میں ہی غلط نظر آتی ہو۔خالدہ بیگم بڑبڑاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانیہ بیٹے !مستقیم کو میرے کمرے میں بھیجنا۔
جی مما! ہانیہ جو اس وقت روزینہ بیگم اور محتشم اعوان کو دودھ دینے گئی تھی انہیں روزینہ بیگم نے بولا
مستقیم ! ہانیہ بھابھی نے اسکے کمرے کا دروازہ ناک کیا
دودفعہ ناک کرنے کے بعد مستقیم نے دروازہ کھولا
جی بھابھی ! مستقیم کے گیلے بال بتا رہے تھے کہ وہ ابھی نہا کر باہر نکلا ہے۔
مما نےتمھیں اپنے روم میں بلوایا ہے۔بھابھی نے کہا
آتا ہوں۔مستقیم نے جواب دیا
وہ جانے کے لئے مڑیں تو مستقیم نے انہیں پکارا
بھابھی؟
جی ! انہیں نے مڑتے ہوئے کہا
کیا ہوا ہے؟بھابھی نے مستقیم کو دیکھتے ہوئے کہا
انہیں اپنا یہ دیور بے حد پیارا تھا۔انکا اپنا کوئی بھائی تو تھا نہیں لیکن جب سے اس گھر میں آئیں تھیں تب سے انکی یہ خواہش پوری ہو گئی تھی۔
بہن کی صورت میں انہیں ماہم بھابھی مل گئیں تھیں اور بھائی کی صورت میں مستقیم۔
بھابھی مما ویسے بلا کیوں رہیں ہیں؟مستقیم نے پوچھا
پتا نہیں!بھابھی نے جواب دیا
دوپہر والے معاملے کے لئے تو نہیں؟مستقیم نے پوچھا
شاید! بھابھی نے کہا
ویسے مستقیم ایک بات تو بتاو۔ہانیہ بھابھی نے پوچھا
جی بھابھی!اس نے کہا
تم اگر ماہ خانم سے شادی کرنا چاہتے تھے تو اسطرح چھپ کر نہ کرتے ۔
تمہیں شاید اندازہ بھی نہیں کہ تمھاری اس حرکت سے اسے کیا کیا فیس کرنا پڑ رہا ہے۔ہانیہ بھابھی نے کہا
نام مت لیں اسکا میرے سامنے۔مستقیم نے کہا
الٹی باتیں مت کرو بلکہ میرا مشورہ یہ ہے کہ اب نکاح کر لیا ہے تو نبھاو بھی۔
سچ بتاو تو مجھے تو بہت ہی اچھی لگی ہے ماہ خانم ۔اتنی خوبصورت اور معصوم سی۔ہانیہ بھابھی نے کہا
بھابھی یہ نکاح میں نے ضد میں کیا تھا محبت کا کوئی چکر نہیں تھا۔مستقیم نے کہا
جو ہونا تھا ہوگیا ہے۔اب سب باتیں بھول کر آگے بڑھو۔اور اس رشتے کو نبھاو۔اور جلدی سے نیچے آو۔۔مما بلا رہی ہیں۔بھابھی نے کہا تو وہ سر ہلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔
مما آپ نے بلایا تھا؟مستقیم انکے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولا
جی۔۔انھوں نے کہا
تمھیں یہ بتانا تھا کہ کل ہم ماہ خانم کے گھر جائیں گے۔تم تیار رہنا۔انھوں نے کہا
مما میں نہیں جاونگا۔اسنے کہا
یہ میرے بندھے ہوئے ہا تھ دیکھو۔۔مجھے اور میری تربیت کو اور گناہ گار نہ کرو۔انھوں نے روتے ہوئے کہا تو وہ سر جھکا گیا۔۔
ٹھیک ہے۔وہ کہہ کر انکے کمرے سے باہر نکل آیا۔
۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔
اگلے دن محتشم اعوان مستقیم اور روزینہ بیگم کے ساتھ ماہ خانم کے گھر گئے۔
گیٹ کے سامنے گاڑی روک کر محتشم اعوان نیچے اترے اور جاکر بیل بجائی۔
تھوڑی دیر کے بعد ملازم نے دروازہ لھولا
اسلام و علیکم!ملازم نے کہا
وعلیکم سلام !محتشم اعوان نے کہا
میں شاہ خان صاحب سے مل سکتا ہوں؟ محتشم اعوان نے کہا
آغا جان کو تو ہاراٹ اٹیک ہوا ہے۔گھر میں اس وقت صرف شاہ زیب خان ہیں۔آپ کہیں تو میں انہیں بلادوں؟ملازم نے کہا
جی ضرور۔محتشم اعوان نے کہا
تھوڑی دیر کے بعد ملازم پھر آیا اور انہیں اندر آنے کا کہا۔
وہ روزینہ بیگم اور مستقیم کو لئے گھر کے اندر داخل ہوئے۔
گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی دائیں بائیں خوبصورت سا لان تھا اور درمیان میں سفید روش تھی جس پر سے گزر کر ملازم انہیں لئے گرل کے پاس پہنچا اور گرل کھول کر اندر داخل ہوا اور انہیں لئے ڈرائنگ روم میں چلا گیا۔
آپ لوگ بیٹھیں۔
صاحب تھوڑی دیر میں آتے ہیں۔
تھوڑی دیر کے بعد شاہ زیب خان اندر داخل ہوئے تو محتشم اعوان اٹھ کر ان سے گلے ملے۔
حال احوال کے بعد شاہ زیب خان نے کہا
میں آپکو پہچانا نہیں ۔آپ کون ہیں؟
اصل میں آپ مجھے نہیں جانتے اور میں بھی آپکو نہیں جانتا تھا بلکہ میں شاہ خان صاحب کو بھی نہیں جانتا ۔
لیکن ابھی دو دن پہلے کچھ ایسا ہوا ہے جس نے ہم دو گھروں کو درہم برہم کر دیا ہے۔
محتشم اعوان نے تمہید باندھی۔
میں ماہ خانم کا سسر محتشم اعوان ہوں اور یہ میرا بیٹا مستقیم ہے ۔انہوں نے اپنا تعارف کرایا
ماہ خانم کا نام سنتے ہی شاہ زیب خان اٹھ کھڑےہوئے۔
آپ کس سلسلے میں یہاں تشریف لائے ہیں؟شاہ زیب اعوان نے کہا
ہم آپکی بہن کو عزت و احترام کے ساتھ اپنی بہو بناکر گھر لے جانا چاہتے ہیں۔محتشم اعوان نے کہا
آپ کو معلوم ہے آپکے بیٹے کی وجہ سے کیا ہوا ہے؟ہمارا گھر بکھر گیا ہے۔باپ ہمارا ہاسپٹل میں ہے اور بھائی میرا پتہ نہیں کہاں چلا گیا ہے اور بہن کو پرسوں لاوارثوں کی طرح میرے باپ نے گھر سے نکال دیا تھا۔
ہماری عزت نیلام ہوگئی اور آپ کہتے ہیں کہ کیا ہوا ہے؟ ماہ خانم اپنے کزن کی منگ تھی ۔ہمارے یہاں منگ کسی اور کو نہیں دی جاتی اور آپکے بیٹے نے اسے بلیک میل کر کے اس سے چھپ کر نکاح کر لیا ۔شاہ زیب خان جیسے پھٹتے ہوئے بولے
محتشم اعوان صبر سے انکی بات سنتے رہے۔
ہم معزرت خواہ ہیں بھائی صاحب۔اس دفعہ روزینہ بیگم بولیں
ہمارےبیٹے سے جو غلطی ہوئی ہے وہ نا قابل تلافی ہے لیکن پھر بھی آپ تھوڑی سی گنجائش نکال کر اسے اپنے گھر سے رخصت کر دیں تو اچھا ہو گا۔روزینہ بیگم نے کہا
یہ تو ممکن نہیں ہے۔شاہ زیب خان نے صاف منع کیا
ہمارے گھر میں تمام فیصلے شاہ خان صاحب کی مرضی سے ہوتے ہیں اور جس کام کے لئے وہ نہ کہہ دیں پھر وہ کام ہمارے لئے حرام ہوتا ہے۔شاہ زیب خان نے کہا
آپ بات کو سمجھیں بھائی صاحب۔روزینہ بیگم نے کہا
میں صرف اتنا کر سکتا ہونکہ اپنی بیوی اور بھابھی کو ولیمے میں بھیج دو۔اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کر سکتا۔میں مجبور ہوں۔شاہ زیب خان نے اپنے اعصاب پر قابو پاتے ہوئے کہا
جی یہ بھی بہتر ہے۔محتشم اعوان نے کہا اور جانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔
اسی وقت ملازم لوازمات لیکر اندر داخل ہوا
آپ لوگ کچھ کھائے پئے بغیر جارہے ہیں۔شاہ زیب خان مہمان نوازی کر نے لگے۔جو بھی تھا انکے گھر سے کوئی کھائے پئے بغیر نہیں جاتا تھا۔
نہیں !شکریہ ۔بہت لیٹ ہو گئے ہیں اور مجھے میٹنگ میں جانا ہے۔محتشم اعوان نے کہا اور جانے کی اجازت چاہی تو شاہ زیب خان اٹھ کر ان سے گلے ملے اور انکو گاڑی تک چھوڑنے گئے ۔
اس تمام عرصے میں نہ مستقیم کی طرف وہ دیکھے اور نہ اس سے ہا تھ ملایا۔
میں آپکو فون کے زریعے بتا دونگا کہ ولیمہ کب ہے۔محتشم اعوان نے کہا
ضرور ۔شاہ زیب خان نے کہا
اور محتشم اعوان گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے۔
انکے جاتے ہی شاہ زیب خان لان میں پڑی چئیر پر بیٹھ گئے اور دل ہی دل میں ماہ خانم کے لئے دعا کرنے لگے۔ماہ خانم کے لئے ان سب نے بہت کچھ سوچ رکھا تھا لیکن ایسی رخصتی ہوگی یہ کسی کہ وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔
لیکن ایک بات کی انہیں تسلی تھی کہ ماہ خانم اچھے لوگوں میں تھی اسکی ساس سسر انہیں شریف لوگ لگے تھے۔
وہ ماہ خانم کے لئے وہی بیٹھے دل ہی دل میں دعا کرنے لگے۔
۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔
آج مستقیم اعوان کے ولیمے کی تقریب تھی۔تقریب کا اہتمام گھر کے لان میں ہی کیا گیا تھا۔زیادہ لوگوں کو نہیں بلایا گیا تھا جو قریب کے لوگ تھے بس ان کو ہی مدعو کیا گیا تھا۔
سب نے ہی اس افرا تفری کی شادی کی وجہ پوچھی تھی ۔انہوں نے شاہ خان صاحب کی طبیعت کا بول کر سب کو ٹال دیا تھا۔
ماہ خانم نے آج گرے کلر کی میکسی پہنی ہوئی تھی جسکے اوپر باریک نگوں سے کام ہوا تھا ۔کچھ ماہ خانم خوبصورت بے حد تھی اور کچھ میک اپ کا کمال تھا کہ وہ بہت زیادہ پیاری لگ رہی تھی۔
مستقیم نے تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا ۔اور بلاشبہ دونوں ہی بہت پیارے لگ رہے تھے۔
سب لوگوں کی نظروں میں ماہ خانم کے لئے ستائش تھی لیکن اسے صرف اپنے گھر والوں کا انتظار تھا ۔اسے روزینہ بیگم نے بتایا تھا کہ وہ لوگ آئیں گے تب سے وہ انتظار کی سولی پر تھی۔
آخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور اسے اپنی بھابھیاں ماہم بھابھی کے ساتھ آتی دکھائی دیں ۔
ماہم بھابھی انہیں لیکر اسٹیج کی طرف ہی آرہی تھیں۔جیسے ہی وہ اسٹیج پر پہنچی تو ماہ خانم اٹھ کھڑی ہوئی اور ان سے گلے ملی۔
دونوں اچھے طریقے سے اس سے ملیں۔
بھابھی !گھر میں سب ٹھیک ہوا؟
رحمان بھائی کا کچھ پتہ چلا؟
اور آغا جان کی طبیعت ٹھیک ہوئی؟؟ماہ خانم بولتے بولتے رونے لگی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔*****۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے

0 Comments