Ticker

6/recent/ticker-posts

Rishte chahat ke epi 9

Rishte chahat ke:



Rishte chahat ke

                                                                             
                                                                            قسط 9                                                          

اس دن کے بعد سے انوشہ شہام کا سامنا کرنے سے گھبرا رہی تھی۔وہ کوشش کرتی تھی کہ اسکا اور شہام کا سامنا ہی نہ ہو۔


وہ اس وقت کچن میں کھڑی اپنے لئے چائے بنا رہی تھی کہ شہام بے دھیانی میں کچن میں داخل ہوا ۔


سامنے انوشہ کو دیکھا تو کھل اٹھا ۔


وہ کافی دنوں سے اس سے بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ ہاتھ ہی نہیں آرہی تھی۔آج اتفاق سے شہام کو وہ مل گئی تھی تو وہ چاہتا تھا کہ اسکا جواب معلوم کر لے۔


"میرے لئے بھی بنانا ".وہ اپنے ہی خیال میں کھوئی ہوئی تھی۔جب اچانک شہام نے کہا تو انوشہ اچھل پڑی۔



وہ وہی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا ۔


"یہ اپنے کمرے میں کیوں نہیں جا رہا ؟ "انوشہ نے دل میں سوچا


اسے شہام کے وہاں بیٹھنے سے جھجھک ہو رہی تھی۔لیکن وہ شہام کو وہاں سے اٹھنے کا نہیں بول سکتی تھی۔


جلدی جلدی اسنے چائے بنائی اور اسکے سامنے رکھی۔


"یہ چائے"اسنے کپ اسکے آگے رکھتے ہوئے کہا



وہ اپنا کپ کچن سے لیکر باہر جانے لگی تو اسے شہام کی آواز سنائی دی۔


"انوشہ۔۔۔۔۔۔۔"


انوشہ نے آنکھیں بند کر لیں۔وہ یہاں سے غائب ہوجانا چاہتی تھی۔اسے لگ رہا تھا کہ اگر اسنے ایک دو دفعہ اور شہام کی بات سنی تو وہ اسکی باتوں کے سحر میں جکڑی چلی جائے گی۔"


وہ نہیں چاہتی تھی کہ کوئی اسکی مما بابا کی تربیت کو غلط بولے۔بھلے وہ اسکے جان چھڑکنے والے چاچا ہی کیوں نہ ہو۔


"میری بات سنو انوشہ "شہام نے کہا اور پھر خود اٹھ کر اسکے سامنے جا کھڑا ہوا۔


تم مجھ سے کیوں چھپ رہی ہو؟ شہام نے پوچھا


"نہیں تو"انوشہ نے بولا


"تو پھر تم میرے سامنے کیوں نہیں آتی"؟ شہام نے کہا


ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔اسنے جواب دیا۔

دل میں اسے اسکے مشاہدے پر حیرت بھی ہوئی کہ وہ اسے اتنا نوٹ کرتا ہے۔


"میں نے کچھ سوال کیا تھا تم سے"شہام نے کہا


وہ خاموش رہی تو پھر شہام بولا


"اگر میں پسند نہیں بھی ہوں تو ناں بول دو۔ایسے سولی پر نہ لٹکاو مجھے۔تم تو خاموشی کی موت مار رہی ہو۔"


میں نے کب کہا یہ؟انوشہ نے بالاآخر جواب دیا


"مطلب میں تمہیں پسند ہوں؟" شہام نے مسکراہٹ چھپاتے ہوئے کہا


" مجھے نہیں پتہ"انوشہ نے کہا


"تو کسے پتہ ہوگا؟"شہام نے آنکھوں میں شرارت لئے انوشہ سے پوچھا


"پتہ نہیں "انوشہ نے کہا


"تم نے یہ نیا جملہ کس سے سیکھا ہے؟ہر بات کے جواب میں پتہ نہیں کہنا؟"شہام نے ہنستے ہوئے کہا تو انوشہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا


تو شہام نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا


"ہم بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں؟"


تو وہ خاموشی سے ڈائننگ ٹیبل کی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی ۔


"کیا بات ہے ؟ کس بات سے کنفیوز ہوکر فیصلہ نہیں کر پارہی"؟شہام نے پوچھا


"کوئی بات نہیں ہے"۔انوشہ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ میں پھنساتے ہوئے کہا


"تو پھر میں بابا کو ہاں کہ دوں"؟شہام نے کہا تو انوشہ نے جھٹکے سے سر اٹھایا اور اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا


شہام اسکی نظروں کا سوال سمجھ کر بولا


"میں نے بابا کو بتا دیا تھا کہ میں تمھیں پسند کرتا ہوں۔وہ دادو سے رشتے کی بات کرنےپاکستان آنا چاہتے تھے۔لیکن میں نے انھیں کہا کہ پہلے میں انوشہ سے اسکی رضامندی پوچھ لو۔"شہام نے اسے تفصیل بتاتے ہوئے کہا


تو پھر میں بابا کو بات کرنے کا کہہ دوں؟ وہ پھر اپنی بات پر آتے ہوئے بولا


"آپ نے چچا کو کیوں بتایا؟"انوشہ نے خفگی سے کہا


"کیا کیوں بتایا"؟شہام نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا


"یہی کہ ۔۔۔۔۔۔۔"انوشہ شرم سے جملہ پورا نہ کر پائی۔


"یہی کہ کیا؟"شہام نے پوچھا


"مجھے نہیں پتہ"وہ خفگی سے کہتی اٹھ کھڑی ہوئی۔


شہام نے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے کہا


"یار!اب رشتہ مانگنے کے لئے بابا ہی آئیں گے ناں؟یاں میں انھیں بول دوں کہ انوشہ چاہتی ہے کہ ہم دونوں اکیلے اکیلے نکاح پڑھواکر ان سے ملنے آئیں گے؟"


وہ پھر شرارتی موڈ میں آچکا تھا ۔


انوشہ نے خفا خفا نگاہوں سے اسے دیکھا تو وہ اسکی خوبصورت آنکھیں دیکھتے ہوئے آہستہ سے بولا


"مت گھورا کرو اتنا "


تو انوشہ کا چہرہ لال ہوا ۔وہ دلچسپی سے اسکے چہرے کے رنگ دیکھے گیا۔


"بابا کو ہاں کر دوں ناں؟" اس دفعہ شہام نے آہستہ سے کہا لیکن اسکے لہجے میں جو مان تھا وہ مخفی نہ تھا ۔


"وہ ہر صورت انوشہ سے آج ہاں کرانا چاہتا تھا۔"


وہ خاموش رہی تو وہ پھر بولا


"پلیز"


وہ پھر بھی خاموش رہی تو وہ چندلمحے اسے دیکھتا رہا اور پھر جانے کے لئے مڑا ۔


"چچا میرے بارے میں کیا سوچتے ہونگے کہ انوشہ ایسی ہے"؟اسے انوشہ کی آواز سنائی دی تو وہ مڑا اور مڑ کر انوشہ کو دیکھا


جسکی آنکھوں سے آنسو بہنے کو بیتاب تھے۔


وہ اسکے قریب جا کھڑا ہوا اور کہا


"بابا آج کل تو بس یہ سوچ رہے ہیں کہ انکے ہینڈ سم سے بیٹے کو انکی انوشہ کب ہاں کرتی ہے۔اور جہاں تک بات ہے یہ سوچنے کی کہ انوشہ کیسی ہے تو اس بات کے لئے انہیں سوچنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ انھہیں علم ہے کہ تم کیسی ہو"۔وہ خاموش ہوا اور پھر اسے دیکھا ۔


اور جہاں تک بات ہے پسند کرنے کی تو بابا مما چاہتے تھے کہ میں تم سے شادی کروں"۔شہام نے کہا

مطلب آپ نے انکے کہنے پر مجھے پرپوز کیا تھا؟ انوشہ نے پوچھا


"یہ کہتے ہوئے دل میں اسے چبھن بھی ہوئی تھی۔ کیونکہ وہ اب تک سمجھ رہی تھی کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے"۔


شہام نے ایک نظر اسکے چہرے کی طرف دیکھا اور پھر مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا


"یس۔۔۔انکی خوشی"ابھی وہ جملہ پورا بھی نہیں کر پایا تھا کہ انوشہ کی آنکھوں سے آنسو گر پڑے۔

شہام اسکے قریب جا کھڑا ہوا۔ اور اسکے آنسو صاف کرنے کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا تو وہ بے ساختہ پیچھے ہٹی تو شہام نے کہا

"ان آنسو کو چھونے کا حق حاصل کرنے کے لئے پر پوز کیا تھا۔ اور خالصتا اپنی مرضی سے کیا تھا ۔مما بابا کی خواہش ضرور تھی لیکن آخری فیصلہ میرا ہی ہونا تھا"۔شہام نے کہا

"وہ بے یقینی سے اسے دیکھتی رہی اور پھر کہا "

"ابھی تو آپ بول رہے تھے کہ بابا مما کی خوشی کے لئے پر پرپوزکیا تھا "

انوشہ کی سوئی ابھی بھی ادھر ہی اٹکی ہوئی تھی۔

"ہاں تو تم بھی تو سیدھے طریقے سے ہاں نہیں کر رہی تھی ۔اب دل کی بات اگلوانے کے لئے انگلیوں کو تھوڑا ٹیڑھا کرنا پڑتا ھے۔"

شہام نے ہنستے ہوئے کہا تو وہ بھی ساتھ میں ہنسنے لگی۔

۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔

"شفا بیٹے جاو "زعیم کے روم میں یہ شرٹس رکھ آو۔"

گل جان نے پریس کی ہوئی شرٹس اسے تھمائیں۔اور خود کچن میں چلی گئیں تو شفا نہ چاہتے ہوئے بھی زعیم کے کمرے کی طرف بڑھی۔

دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی اور چاروں طرف نظر ڈورائی۔

کہی پر کوئی بھی بے ترتیبی نہیں تھی۔کمرہ بلکل صاف تھا ۔

"اسنے الماری کھولی اور شرٹس رکھیں۔"

الماری بند کر کے جیسے ہی وہ جانے کے لئے مڑی اسی وقت زعیم دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا ۔

وہ کچھ فائلز بھول گیا تھا وہی لینے آیا تھا ۔

شفا کو اپنے کمرے میں دیکھا تو اسکے ماتھے پر بل آگئے۔

"تم میرے کمرے میں کیا کر رہی ہو؟"زعیم نے پوچھا

"وہ مجھے تائی امی نے کہا تھا کہ آپکی شرٹس رکھ دوں۔"شفا نے جواب دیا

رکھ لیں ؟ زعیم نے پوچھا

"جی ""شفا نے جواب دیا

"تو پھر جاو ۔یہاں کھڑی کیا کر رہی ہو۔اور ہاں ایک چیز اور ۔۔۔۔۔

آئندہ کے بعد میں تمہیں یہاں اپنے کمرے میں نہ دیکھوں۔یہ بات اپنے دل و دماغ میں بٹھالو۔"زعیم نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا

وہ شرمندگی سے سرخ چہرہ لئے اسکے کمرے سے نکل گئی۔اور دل میں قسم کھائی کہ کچھ بھی ہو جائے ۔زعیم کے کمرے میں نہیں آنا ہے۔

اسے سیڑھیوں سے نیچے آتا دیکھا تو گل جا ن نے کہا

"رکھ لیں شرٹس"

"جی تائی امی"۔شفا نے جواب دیا اور خود لان میں چلی گئی۔

دوپہر کے چار بجے کا ٹا ئم تھا۔افرا اور شمع بھابھی سو رہیں تھیں۔اور صارم اور رضا کوچنگ گئے ہوئے تھے۔

معیز کا کوئی میچ تھا ۔تو وہ ادھر گیا ہوا تھا۔ایک وہی فارغ تھی۔وہ جاکر لان میں گھاس پر بیٹھ گئی۔

"وہ زعیم کی بات کو سوچنا نہیں چاہتی تھی۔پھر بھی وہ سوچے جا رہی تھی۔اسے رونا آرہا تھا لیکن وہ رونا نہیں چاہ رہی تھی۔"

"میں نے انکا کیا بگاڑا ہے"۔وہ آہستہ سے بڑ بڑائی۔

اسے پھر سے اپنی بے عزتی یاد آنے لگی تو آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے۔

وہ گھٹنوں میں منہ چھپاکر رونے لگی۔

فائل لیکر گاڑی میں بیٹھتے زعیم نے ایک نظر اسے دیکھا جو سر گھٹنوں میں دئیے بیٹھی تھی۔"

اب اللہ جانے وہ رورہی تھی کہ نہیں لیکن اسے محسوس ہوا وہ رو رہی ہے۔

وہ سر جھٹک کر گاڑی میں بیٹھا اور آفس کے لئے نکل گیا۔

وہ وہی بیٹھی روتی رہی۔

ایسا رویہ اسکے ساتھ کبھی کسی نے نہیں رکھا تھا تو تکلیف تو ہونی تھی۔

۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔

"مما ! ہم اپنے گھر نہیں جا سکتے؟"شفا نے جبیں بیگم سے کہا

"یہ اپنا گھر ہی تو ہے"۔انہوں نے جواب دیا ۔

"میرا مطلب اپنے گھر میں "۔وہ "اپنے "پر زور دیکر بولی تو جبیں بیگم نے الماری سے کپڑے درست کرتے کرتے مڑ کر اسے دیکھا

"مطلب کیا ہے تمھارا؟"جبیں بیگم نے تیکھے لہجے میں اس سے پوچھا

تو وہ اٹھ بیٹھی اور تکیہ گود میں رکھ کر کہنے لگی

"میرا مطلب ہے وہ گھر اچھا تھا ۔یہاں اتنے لوگ ہیں "

"تو اچھا ہے ناں ۔زیادہ لوگ ہیں۔تمھییں بھی تو جوائنٹ فیملی پسند تھی۔"جبیں بیگم نے کہا

ہاں مگر شفا ابھی بول ہی رہی تھی کہ

افرا باہر سے بولتی ہوئی اندر آئی

"تائی امی آپ نے شفا کو کہیں ۔۔۔۔" سامنے ہی شفا کو بیٹھے دیکھا تو کہا

میں تمھیں تمام پارشنز میں ڈھونڈ چکی ہوں اور تم یہاں ہو۔"

کیا ہوا؟ شفا نے بیزاری سے پوچھا

"کیا ہوا کی کچھ لگتی چلو اٹھو "افرا نے اسکا ہا تھ پکڑ کر اٹھا یا اور اپنے ساتھ اپنے پارشن میں لے گئی۔

"دیکھو میں اپنی پارٹنر لے آئی ہوں۔صارم اور رضا اس وقت لڈو کھولے بیٹھے تھے۔افرا نے ان دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا

تم کہاں روپوش تھی؟ صارم نے شفا سے پوچھا

مما کے روم میں تھی۔اس نے جواب دیا

پھر وہ لوگ لڈو کھیلنا شروع ہوگئے۔

جب صارم اور رضا کی گوٹیاں جلدی جلدی لال ہونا شروع ہوئیں تو افرا اور شفا نے لڑنا شروع کر دیا ۔

حقیقت ویسے تھی بھی یہی کہ وہ لوگ بے ایمانی کر رہے تھے۔

تم لوگ بے ایمانی کر رہے ہو ۔افرا نے لڑتے ہوئے کہا

ارے واہ ۔اب جب ہم لڑکے جیت نے لگے ہیں تو بے ایمانی کا الزام لگا دیا ۔صارم نے کہا

جیت کے کچھ لگتے ۔۔شفا نے کہتے ہوئے لڈو اٹھا کر دروازے کی طرف اچھالی۔جو اندر آتے زعیم کو لگی۔

وہ اسے لڈو پھینکتا دیکھ چکا تھا۔

اسلئے مستحکم قدم چلتا وہ انکے پاس آیا

صارم ،رضا تم لوگ کوچنگ گئے تھے؟اس نے ان دونوں سے پوچھا

وہ دونوں سر جھکا گئے ۔

پھر وہ افرا کی طرف مڑا

پہلے ہی تمھارا دماغ پڑھائی میں نہیں لگتا ۔یہ فضول گیم کھیلوگی تو پڑھائی کس نے کرنی ہے۔

اور پھر وہ وہاں سے چلا گیا۔

شفا کو ایسے نظر کر گیا جیسے وہ وہاں ہو ہی نہیں۔

اسکے جاتے ہی صارم صوفے پر گرنے کے سے انداز میں بیٹھا اور بولا

کلاس ہو گئی ہے یار۔صارم نے کہا

کس کی کلاس ہوئی ہے؟اندر آتے معیزنے پوچھا

ہم سب کی ۔سوائے شفا کے۔اور پھر پورا واقعہ اسے بتایا

مزے ہیں تمھارے شفا ورنہ زعیم بھائی کسی کو بھی نہیں بخشتے۔

زعیم جو ادھر ہی کسی کام سے واپس آرہا تھا معیز کا جملہ سن کر انکے قریب پہنچ کر بولا

میں کلاس بھی انکی لیتا ہوں جو اس قابل ہونکہ میری بات کو سمجھ سکیں۔

یہ کہ کر وہ یہ جا وہ جا۔

جبکہ پیچھے وہ سب ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔

شزا اور انوشہ لاونج میں بیٹھیں ٹیوی دیکھ رہیں تھیں کہ انھوں نے ماہ خانم کو سیڑھیوں سے آتے دیکھا ۔

انکے پیچھے مستقیم صاحب بھی تھے۔

وہ آکر صوفے کے پاس رکیں اور کہا

"ہم لوگ فنکشن میں جا رہے ہیں ۔لاونج کا دروازہ یاد سے لاک کر دینا ۔ماہ خانم نے ان دونوں کو تاکید کی تو انہوں نے سر ہلا دیا۔

وہ مطمئن ہوتیں مستقیم کے پیچھے لاونج سے نکل گئیں۔

پارچ میں جاکر مستقیم صاحب گاڑی میں بیٹھے تو وہ بھی فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھ گئیں۔

پورا راستہ خاموشی سے کٹا۔

"وہ دونوں آج بھی سمندر کے دو کناروں کی طرح تھے ۔بظاہر بہت پاس لیکن حقیقت میں بہت دور۔"

مستقیم اعوان اور ماہ خانم اسوقت اپنے کچھ جاننے والوں سے کھڑے با تیں کر رہے تھے کہ انہیں آواز آئی۔

"ہائے مستقیم"۔اس آواز کو وہ کیسے بھول سکتے تھے۔

وہ پیچھے مڑے انکے ساتھ ماہ خانم نے بھی پیچھے مڑ کر دیکھا ۔

"ہاں یہ وہی تھی۔وہ آج بھی ویسی ھی تھی جیسی بیس سال پہلے تھی۔تھوڑی موٹی ہوگئی تھی لیکن خوبصورتی اب تک ویسی کی ویسی ہی تھی۔ایسا لگ رہا تھا کہ وقت اسے چھوئے بنا گزر گیا ہو۔

تب تک وہ انکے قریب آچکی تھییں۔

"پہچانا مجھے"؟ انھوں نے مسکراتے ہوئے مستقیم اعوان سے پوچھا

تو انھوں نے اپبے جزبات پر قابو پاتے ہوئے وہاں کھڑے لوگوں سے اسکا تعارف کرایا

"یہ انسہ ہیں۔میری مما کی فرینڈ کی بیٹی۔"مستقیم اعوان نے کہا

تو باقی سب نے بھی خوش اخلاقی سےانسے حال احوال دریافت کیا ۔

ابھی وہ لوگ باتیں ہی کر رہے تھے کہ مسز خان نے ماہ خانم سے کہا

"مسز ضیا کب سے تمھارا پوچھ رہیں ہیں۔آو میں تمھیں ان سے ملواتی ہوں۔

تو ماہ خانم انکے ساتھ چل دیں۔

تھوڑی دیر کے بعد جب سب لوگ ادھر ادھر ہوئے تو مستقیم اعوان نے انسہ سے پوچھا

"کیسی ہو؟"

"بلکل ٹھیک" انسہ نے جواب دیا

"تمھاری وائف بہت گریس فل ہے۔"انسہ نے خوش دلی سے تعریف کی۔

"لیکن تم تو نہیں ہو نا ں"۔مستقیم صاحب نے جواب دیا

"اوہو مستقیم مزاق نہیں کرو ۔تمھاری مزاق کی عادت اب بھی نہیں گئی؟"انسہ نے ہنستے ہوئے کہا

"کتنے پاگل ہوتے تھے ناں ہم لوگ"۔انسہ نے کہا

یاد ہےتمھاری شادی کی خبر سن کر میں کتنا روئی تھی ۔

اب میں سوچتی ہوں تو مجھے ہنسی آتی ہے۔وہ تو وقتی کشش تھی۔جسے میں محبت سمجھ بیٹھی۔ ۔اصل محبت تو مجھے ضارب سے ہے۔ ۔انکے بغیر میرا دل ہی نہیں لگتا۔"

اسی وقت انکا موبائل بجنے لگا تو انسہ نے نمبر دیکھ کر کہا

"ضارب کی کال ہے۔"

"اوکے ۔سی یو ۔بائے "کہتے وہ وہاں سے چل دیں۔

اور مستقیم اعوان وہاں کھڑے کھڑے اپنی زندگی کے خساروں کو یاد کرتے رہے۔

انہوں نے اس عورت کے لئے ماہ خانم کو دکھ دئے تھے۔انہیں ایک پل سکوں سے نہ رہنے دیا تھا

اس عورت سے شادی نہ ہونے کا بدلہ وہ ماہ خانم سے لیتے رہے ۔

انہیں آج بھی یاد تھا کہ انھوں نے انسہ کے گھر سے آنے کے بعد ماہ خانم کا کیا حشر کیا تھا۔

اور یہ کہہ گئی تھی کہ وہ وقتی کشش تھی ۔"

انکا دل گھبرانے لگا تو انھوں نے ماہ خانم کو گھر چلنے کا کہا ۔

اور گھر آکر اسٹدی روم میں چلے گئے۔

کپڑے چینج کرنے کے بعد ماہ خانم دودھ گرم کرنے چلیں گئیں۔

دودھ لیکر وہ اسٹڈی روم میں گئیں تو انھوں نے مستقیم صاحب کو صوفے کی بیک سے سر ٹکا ئے پایا

مستقیم آپکا دودھ۔ماہ خانم نے پکارا

تو انہوں نے چونک کر انہیں دیکھا ۔ماہ خانم نے انکی لال انگارہ ہوتی آنکھوں کو دیکھا تو خاموشی سے واپس جانے کے لئے مڑیں تو بلکل اچانک مستقیم اعوان نے انکا ہاتھ پکڑ لیا ۔

اس لمس میں بہت فرق تھا ۔

نرمی تھی ،محبت تھی اور عزت تھی۔

ماہ خانم میں نے تمھے کچھ بتانا ہے۔انھوں نے کہا

مجھے کچھ نہیں جاننا۔

ماہ خانم بولتے ہوئے اپنا ہاتھ چھڑانے لگیں تو انھوں نے اپنی گرفت انکے ہاتھ پر مضبوط کی اور کہا

لیکن میں بتانا چاہتا ہوں۔یہ کہ کر زبردستی اپنے پاس صوفے پر بٹھالیا ۔

کا فی دیر سر جھکائے بیٹھے رہے اور پھر کہا

مجھے تم سے معا فی مانگنی ہے۔میں نے تمام زندگی تم پر زندگی تنگ کی۔ کیونکہ تمھاری وجہ سے میری پسند روئی تھی۔اور آج وہ کہتی ہے کہ وہ کشش تھی۔

مستقیم اعوان نے بولتے بولتے انہیں دیکھا

وہ خاموشی سے روتی جا رہی تھیں۔

بیس سال انھوں نے ان پر زندگی تنگ کی تھی۔یہ سچ تھا کہ شزا کے پیدا ہونے کے بعد انہوں نے بلیک میل کر کے شادی کرنے کی غلطی پر ان سے معافی مانگی تھی۔ لیکن کبھی اپنے تشدد پر شرمندہ نہیں ہوئے تھے۔انکی بیوی ہونے کے ناطے وہ جس عزت کی حقدار تھیں وہ عزت انھوں نے انکو نہ دی تھی ۔

وہ اس شخص سے شدید نفرت کرنا چاہتی تھیں۔لیکن جتنی شدت سے وہ ازیت دیتے تھے ۔اتنی ہی شدت سے انکا دل ان سے محبت کرتا تھا۔

وجہ نہ جانے کیا تھی۔

لیکن وہ اس شخص سے لاکھ اختلاف ہونے کے باوجود محبت کرتی تھیں۔

جو بھی تھا ماہ خانم کے دل پر مستقیم اعوان کا قبضہ تھا۔

مستقیم اعوان ان خوش نصیب لوگوں میں سے تھے جنہیں بے غرض محبت ملتی ہے۔

ماہ خانم ۔۔۔۔مستقیم اعوان نے انہیں پکارا

تو وہ اپنی سوچ سے نکل کر انہیں دیکھنے لگیں۔

مجھے معاف کر دو۔دونوں ہاتھ جوڑتے مستقیم صاحب نے کہا

تو وہ انکے ھاتھوں پر سر رکھ کر رودیں۔

ان آنسو میں بہت کچھ تھا ۔شکوہ تھا ،شکایت تھی ،غصہ تھا،خوشی تھی اور سب سے بڑھ کر محبت تھی۔

بیس سال کے بعد انکے شوہر نے انہیں عزت دی تھی،مان دیا تھا ۔انہیں اور کیا چاہیے تھا۔

انہوں نے سر اٹھایا اور مستقیم اعوان کے شانے پر سر رکھ دیا ۔

انہوں نے بہت لمبا سفر طے کیا تھا۔اس سفر میں انکے پاوں شل ہوئے تھے ،روح زخمی ہوئی تھی ۔

بیس سال کی تھکان تھی۔ وہ اس تھکن کو اتارنا چاہتی تھیں۔

بیس سال کے بعد وہ پر سکون نیند سونا چاہتی تھیں۔آج بیس سال کے بعد سلیپنگ پلز لئے بغیر وہ پر سکون نیند سو نے جا رہی تھیں۔

اور ماہ خانم کے دماغ میں بہت سال پہلے پڑھی غزل گونج رہی تھی۔

میں زندہ ایک حقیقت ہوں

میں جبیں کی شدت ہوں

میں تم کو دیکھ کر جیتی ہوں

میں ہر پل تم پر مرتی ہوں

میں ایسی محبت کرتی ہوں

تم کیسی محبت کرتے ہو

تم جب بھی سامنے آتے ہو

میں تم سے سننا چاہتی ہوں

اے کاش کبھی تم بھی کہ دو

تم مجھ سےمحبت کرتے ہو

میں ایسی محبت کرتی ہو

تم کیسی محبت کرتے ہو

وہ اس غزل کو سوچتے نیند کی گھرائیوں میں کھو گئیں تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔

جاری ہے

Post a Comment

0 Comments