Rishte chahat ke:
قسط 10
مما میں ارحمہ کے گھر جا رہی ہوں۔شفا نے جبیں بیگم سے کہاجو کچن میں کھڑی کھانا بنا رہی تھیں۔
انھوں نے پیچھے مڑ کر اسے دیکھا جو اس وقت لان کی پیلی قمیض اور بلیک کلر کے ٹراوزر میں ملبوس تھی۔
کس کے ساتھ جاو گی؟ بی جان نے پوچھا کیونکہ اس وقت گھر میں لڑکوں میں سے کوئی بھی موجود نہیں تھا اور آج ڈرائیور بھی چھٹی پر تھا۔
میں ٹیکسی کر لونگیں۔اسنے جواب دیا
میں نے زعیم کو ابھی اوپر جاتے دیکھا ہے۔شمع بھابھی نے بتایا
جاو شمع زعیم کو کہو بی جان بلا رہیں ہیں۔۔وہ چھوڑ آئے گا ۔بی جان نے کہا
میں چلی جاوں گی بی جان۔شفا زعیم کےساتھ نہیں جانا چاہتی تھی لیکن وہ بی جان کو صاف منع نہیں کر سکتی تھی۔
ابھی زعیم چھوڑ آئے گا۔اکیلی جاوگی تو ہمیں بھی پریشانی ہوں گی۔بی جان نے کہا
اسی وقت زعیم اور شمع بھابھی آگے پیچھے کچن میں داخل ہوئے۔
بی جان آپنے بلایا تھا؟ زعیم نے بی جان سے پو چھا
ہاں وہ میں یہ کہہ رہی تھی کہ شفا کو اسکی دوست کے گھر چھوڑ آو۔انھوں نے اسے کہا
زعیم نے بی جان کے پا س کھڑی شفا کو دیکھا۔ جو ادھر ادھردیکھ رہی تھی اور دل میں دعا کر رہی تھی کہ زعیم نہ کر دے۔
جی میں چھوڑ آتا ہوں۔زعیم نے بی جان سے کہا
جاو شفا ۔بی جان نے شفا سے کہا تو وہ سر جھکائے اسکے پیچھے چل دی۔
وہ دونوں گاڑی میں جا کر بیٹھے اور زعیم نے گاڑی اسٹارٹ کی۔
ایک بار دو بار تین بار ۔۔۔۔
لیکن گاڑی کو نہ اسٹارٹ ہونا تھا وہ نہ ہوئی۔وہ دروازہ کھول کر گاڑی سے باہر نکلا اور جاکر پیٹرول چیک کیا ۔
اسکا اندازہ بلکل ٹھیک تھا۔پیٹرول بلکل ختم ہو چکا تھا۔
اسنے شفا کی طرف والی ونڈو کو ناک کیا ۔
شفا نے شیشہ نیچے کیا تو اسنے کہا
گاڑی میں پیٹرول نہیں ہے۔باہر آجاو۔ تو وہ شکر کا کلمہ پڑھتی گاڑی سے باہر نکل آئی کہ اسکے ساتھ جانا نہیں پڑا ۔
جیسے ہی وہ باہر آئی اسی وقت معیز بائیک لئے گھر کے اندر داخل ہوا ۔
ان دونوں کو پارچ میں کھڑے دیکھا تو بائیک انکے قریب لے آیا
کہیں جا رہے ہیں؟
ہاں بی جان نے کہا تھا کہ اسے اسکی دوست کے گھر چھوڑ آوں۔وہی جا رہا تھا ۔لیکن گاڑی میں پیٹرول نہیں ہے۔زعیم نے جواب دیا
بھائی میری بائیک پر چلے جائیں۔معیز نے زعیم سے کہا اور بائیک سے اتر گیا ۔
زعیم نے ایک نظر بائیک کو دیکھا اور ایک نظر شفا کو ۔اور پھر بائیک کی طرف بڑھ گیا ۔
بائیک پر بیٹھنے کے بعد اسنے شفا سے کہا
آو بیٹھو۔شفا خاموشی سے بیٹھ گئی۔
اسنے بائیک اسٹارٹ کی اور وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
۔۔۔۔*۔۔۔۔۔
زعیم بائیک آہستہ چلا رہا تھا ۔کیونکہ وہ بائیک چلانے میں مہارت نہیں رکھتا تھا۔
اچانک اسنے ایک مصروف سڑک پر ٹرن لیا ۔
یہ ایک انتہائی مصروف سڑک تھی اور آج تواس پر بے حد ٹریفک تھا ۔
جیسے ہی سگنل گرین ہوا تو زعیم نے بائیک آگے بڑھائی۔اسکی بائیک کے ساتھ ایک اور بائیک بھی آگے بڑھی۔
اس بائیک والے کو پتہ ہی نا چلا کہ اسکی بائیک زعیم کی بائیک سے بلکل ٹکرانے والی تھی۔جیسے ہی زعیم نے دیکھا تو اسنے دائیں ہا تھ سے اس بائیک کے ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر پیچھے کیا۔ لیکن اس سب میں وہ اپنی بائیک پر بیلنس برقرار نہ رکھ سکا ۔اور وہ اور شفا بائیک سمیت گر پڑے۔
شکر ہے بائیک ان پر نہیں گری تھی۔
وہ گرتے ہی اٹھ بیٹھا ۔اسے کوئی چوٹ نہ آئی تھی ۔ بس ہلکی پھلکی خراشیں آئیں تھیں ۔
اسنے شفا کی طرف دیکھا جو ابھی تک گری ہوئی تھی۔
وہ ہاتھ جھاڑتا فورن اٹھا اور شفا کے پاس گیا اور اسکے پاس ہی بیٹھ گیا
کہاں لگی ہے؟ وہ روتی ہوئی شفا سے پوچھنے لگا۔
اسنے کوئی جواب دینے کے بجائے رونا مزید تیز کر دیا ۔
بتاو تو کہاں لگی ہے؟ اس نے دوبارہ پوچھا تو شفا نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا ۔بس روتی رہی۔
زیادہ زور سے لگی ہے؟ زعیم نے اس دفعہ پھر نرمی سے پوچھا
مجھے کمر میں درد ہو رہا ہے۔شفا نے روتے ہوئے بتایا تو زعیم نے ایک لمحے کے لئے اسے دیکھا اور پھر ارد گرد دیکھا جہاں لوگ جمع ہو رہے تھے۔
اسنے شفا کو ہاتھ پکڑ کر اٹھایا
جمع ہونے والے لوگوں میں سے ایک بزرگ نے پوچھا
بیٹا لگی تو نہیں تم دونوں کو؟
نہیں انکل۔
زعیم نے انکو جواب دیا اور پھر شفا کی طرف مڑا جو اب بھی رو رہی تھی۔
ڈاکٹر کے پاس جانا ہے؟اسنے شفا سے پوچھا
مجھے گھر جانا ہے۔اسنے روتے ہوئے جواب دیا تو اسنے خاموشی سے بائیک کو سائیڈ پر کھڑا کیا ۔
اور ایک رکشہ کو روک کر اسے اپنے گھر کا ایڈریس سمجھا یا اور رکشے والے کو کرایہ دیکر شفا کو اس میں بیٹھنے کا کہا
تو وہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔۔
رکشہ چل پڑا اور وہ خود بھی رکشے کے پیچھے گھر کو روانہ ہوا ۔
۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔
ماہ خانم شہام کے ساتھ بی جان سے ملنے آئی ہوئیں تھیں۔
جبیں بیگم شمع بھابھی کے ساتھ انکی کسی دوست کے گھر گئیں ہوئیں تھیں۔باقی سب گھر پر ہی تھے اور لاونج میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ وہ شفا کو لئے اندر داخل ہوا ۔
جیسے ہی گھر والوں کی نظر ان دونوں پر پڑی تو انکی حالت گھر واکوں کو چونکا گئی۔
زعیم نے جو بلیک پینٹ پہنی ہوئی تھی وہ گرنے سے گھٹنوں کے پاس سے پھٹ گئی تھی۔
اور شفا کے بلیک ٹراوزر پر بھی مٹی لگی ہوئی تھی ۔اوپر سے شفا کا رویا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ روئی ہے۔
یہ کیا ہوا ہے؟ سب سے پہلے بی جان نے ہی پوچھا
کچھ نہیں ۔وہ بائیک کا بیلنس مجھ سے برقرار نہ رہ پایا اور ہم گر گئے۔
زعیم نے صوفے پر بیٹھتے ایسے بتایا جیسے روزمرہ کی بات بتارہا ہو۔
تم دونوں کو لگی تو نہیں؟ بی جان نے پوچھا
مجھے تو نہیں لگی۔لیکن شفا کی کمر میں درد ہو رہا ہے۔اس دفعہ بھی زعیم نے ہی جواب دیا
تو خاموش بیٹھے شہام نے بغور زعیم کا چہرہ دیکھا
تو ڈاکٹر کے پاس سے ہو کرآ رہے ہو ناں تم لوگ ؟انہوں نے دوائیوں کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا
نہیں شفا کہہ رہی تھی کہ گھر جانا ہے تو گھر آگئے ہم۔زعیم نے جواب دیا
حد ہوتی ہے لا پرواہی کی بھی زعیم۔ڈاکٹر سے چیک اپ کرا کر لاتے گھر ۔گل جان نے اسے گھڑکا
تو وہ خاموشی سے سر جھکا گیا۔
واسع گاڑی نکالو ۔میں شفا کو ڈاکٹر کے پاس لیکر جاتی ہو۔گل جان نے کہا
گل جان کے کہنے پر واسع بھائی اٹھ کھڑے ہوئے
مجھے نہیں جانا تائی امی۔شفا نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا
چیک اپ کرانے میں کیا ہے۔چلو اٹھو ۔انھوں نے اسے اٹھایا اور ساتھ لیکر باہر چلی گئیں۔جہاں واسع بھائی انکا انتظار کر رہے تھے۔
۔۔۔۔۔*۔۔۔۔
انکے جانے کے بعد زعیم شہام کی طرف متوجہ ہوا
آو کمرے میں چلتے ہیں۔اسنے شہام سے کہا
اور جاتے جاتے افرا کو کمرے میں چائے لانے کا کہا
واپسی کی فلائٹ کب ہے؟
زعیم نے شہام نے پوچھا
بس یار بابا ادھر رشتے کی بات کریں گے تو میں وہاں چلا جاونگا ۔شہام نے ہنستے ہوئے کہا
او ہیرو!مطلب انوشہ نے ہاں کر دی ہے؟زعیم نے ہنستے ہوئے پوچھا
یس مائی فرینڈ۔اسنے بھی ہنستے ہوئے جواب دیا
پھر اسے کہا
تم کب تک کنوارے رہوگے؟ میرے ساتھ ساتھ تم بھی انگیجمنٹ کروا ہی لو۔
شہام نے شرارت سے ایک آنکھ دباتے ہوئے کہا
ہائے بس یار۔کوئی ملتی ہی نہیں ۔زعیم نےبھی شرارت سے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا
ویسے یہ شفا بھی تو پیاری ہے۔تمھاری اور اسکی جوڑی بیسٹ رہے گی۔۔شہام نے کہا
کیوں تجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ ہماری جوڑی بیسٹ رہے گی؟ زعیم نے مسکراتے ہوئے کہا
کیونکہ جس راہ محبت کے تم مسافر ہو اسی راہ کا میں بھی مسافر ہوں۔شہام نے کہا
اور تمہے ایسا کیوں لگتا ہے کہ مجھے محبت کی بیماری ہے۔زعیم نے پھر سوال کیا
ہم تو اڑتی چڑیاں کے پر گن لیتے ہیں زعیم صاحب۔
ویسے آپکی اطلاع کے لئے عرض کر دونکہ پچھلے چھ سالوں میں میں نے کبھی آپکو کسی کی بات مانتے نہیں دیکھا ۔اور آج میری گناہگار آنکھوں اور کانوں نے سنا کہ زعیم صاحب شفا کو اسکے کہنے پر گھر لے آئے۔جبکہ آپکو معلوم بھی تھا کہ اس بات سے تمھیں کتنی ڈانٹ پڑے گی۔لیکن تم نے وہی کیا جو اس نے کہا۔شہام نے ہنستے ہوئے کہا
اسکی کمر میں درد تھا تو میں اسے گھر لے آیا ۔زعیم نے ادھر ادھر دیکھتے جواب دیا تو شہام اٹھ کر اسکے بلکل پاس بیٹھ گیا ۔اور اسکے گلے میں بازو ڈال کر پوچھا۔
ایک بات سچ سچ بتاوگے زعیم؟
ہاں۔زعیم نے جواب دیا
تم شفا سے پیار کرتے ہو تو اقرار کیوں نہیں کرتے؟شہام نے کہا
زعیم اسے دیکھے گیا اور پھر کہا ۔
ایسا کچھ نہیں ہے
اب منہ مت کھلوا میرا۔ورنہ یہ بات تمھیں بھی پتہ ہے کہ رحمان انکل اور جبیں آنٹی سے ملنے کا تو ایک بہانہ تھا ۔ورنہ آپ وہاں جاتے ہی شفا کے لئے تھے۔شہام نے اسکی کمر پر مکہ مارتے ہوئے کہا
تو زعیم خاموشی سے سر جھکائے اپنی ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھے گیا ۔
اسے ایسے افسردہ دیکھا تو شہام نے کہا
کیا بات ہے؟ کیوں پریشان ہو؟
کچھ لمحے وہ سوچتا رہا اور پھر بولا
وہ مجھے پسند نہیں کرتی۔
کس نے کہا تمہیں؟ شہام نے پوچھا
میں نے خود سنا ہے۔وہ رضا کو بول رہی تھی۔تب یہ لوگ اپنے گھر تھے۔اسنے سر شہام کو بتایا
کیا بول رہی تھی؟ شہام نے پوچھا
یہی کہ میں انکے گھر روز چلا آتا ہوں۔اور یہ بھی کہ میں نے رحمان چچا کے پیار پر قبضہ کیا ہوا ہے۔وہ انسے نہیں مجھ سے پیار کرتے ہیں۔زعیم نے شہام کو سر جھکائے جھکائے بتایا
زلیل انسان ۔یہ اتنی چھوٹی سی بات ہے اور تونے اسے دل پر لیا ہوا ہے۔شہام نے ھنستے ہوئے کہا
یہ چھوٹی سی بات نہیں ہے شہام۔اسکے دل میں میرے لئے بد گمانی ہے۔زعیم نے کہا
تو اس بد گمانی کو ختم کر ۔ یا ماموں بننے کا ارادہ ہے؟شہام نے کہا
تو زعیم نے اسکی کمر پر مکہ مارا اور کہا
کمینے ۔۔۔
تو شہام ہنسنا شروع ہوگیا ۔ساتھ میں وہ بھی ہنسنے لگ گیا ۔
پھر شہام نے کہا
میری مان تو انکل سے رشتے کی بات کر۔شہام نے مشورہ دیا
اور اگر شفا نے ناں کر دی تو ؟زعیم نے کہا
تم تو بلکل باولے ہو گئے ہو۔ کیوں نہ کرے گی؟وہ ہاں بھی کر سکتی ہے۔شہام نے کہا
مجھے نہیں لگتا ۔زعیم نے کہا
کوشش کرنے میں حرج کیا ہے؟ ورنہ پھر اسکی شادی کی تقریب میں سیٹوں کی ارینجمنٹ کرانے کے لئے تیار رہنا ۔شہام نے کہا
تو زعیم نے اسے گھورا
ایک تو اور ایک وہ انوشہ دونوں بس مجھے گھورتے رہتے ہو۔اسنے منہ بناتے ہوئے کہا
حرکتیں ہی ایسی ہیں تیری۔زعیم نے کہا
اتنے میں افرا چائے لے آئی تو ان دونوں نے ٹاپک تبدیل کر دیا ۔
کافی وقت گزارنے کے بعد جب شہام گھر جانے لگا تو اس سے بغل گیر ہوتے ہوئے سرگوشی میں کہا
میرے مشورے پر عمل کر لے ۔بات ایک دفعہ بڑوں کی کورٹ تک پہنچادو ۔آگے تمھارا کام خود ہو جائے گا۔"
تو وہ خاموشی سے اسے دیکھے گیا۔
۔۔۔۔*۔۔۔۔۔
یہ آج کل شفا کہاں ہوتی ہے؟ معیز نے افرا سے کہا
کمرے میں ۔افرا نے جواب دیا
کیوں؟ اس دفعہ صارم نے پوچھا
پتہ نہیں ۔کہتی ہے مجھے ریسٹ کرنا ہے۔افرا نے جواب دیا
ویسے تم لوگوں نے نوٹ کیا ہے؟ شفاکچھ دنوں سے بہت خاموش رہنے لگی ہے۔افرا نے کہا
ہاں۔دونوں نے اسکی بات سے اتفاق کیا ۔
شاید طبیعت خراب ہو۔پاس بیٹھی شمع بھابھی نے کہا۔گری بھی تو اتنے زور سے تھی۔
ہاں۔ان تینوں نے سر ہلا دیا۔
۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس وقت کمرے میں لیٹی تھی۔اور زعیم کو سوچے جا رہی تھی۔
اسکا عجیب سا رویہ
پھر اسکی ڈانٹ
پھر گرنے کے بعد ڈاکٹر کے پاس نہ لیکر جانا ۔
اگر اسکی جگہ افرا ہوتی تو کیا پھر بھی وہ نہ لیکر جاتا ؟
وہ سوچی جارہی تھی اور اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
کزن اسکی افرا بھی تھی پھر اسی کے ساتھ وہ عجیب سا رویہ کیوں رکھے ہوئے تھا؟
رضا سے بھی اسکا رویہ اچھا تھا بس ایک اسی سے روڈ لہجے میں بات کرتا تھا ۔
اسکو اپنے سب رشتوں سے پیار تھا۔شاید یہ اسلئے بھی تھا کیونکہ بیس سال وہ رشتے داروں اور کزنوں کے بغیر رہی تھی۔
جب زعیم انکے گھر آتا تھا تو تب بھی اسے زعیم سے گلہ تھا کہ وہ باقی سب کو انکے گھر لیکر کیوں نہیں آتا۔۔
اسے رشتے جڑے ہوئے ہی پسند تھے۔اور اب بہی وہ چاہتی تھی کہ زعیم اس سے بھی باقی کزنوں کی طرح بات کرے۔
لیکن ایسا ہو نہیں رہا تھا اور یہی بات اسے رلا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔
جاری ہے

0 Comments