Ticker

6/recent/ticker-posts

Rishte chahat ke epi 8

 Rishte chahat ke

Rishte chahat ke


"بی جان میں پریئر ہال میں جا رہی ہوں." جبیں بیگم نے کہا 

ہاں بیٹا !" جاؤ " بی جان نے جواب دیا تو جبیں بیگم نماز پڑھنے چلی گئیں .

رحمان صاحب کو جب ہوش آیا تو انہوں نے بی جان کو بینچ پر بیٹھے دیکھا جو تسبیح ہاتھ میں لئے پڑھ رہیں تھیں اور آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے.

وہ آنکھیں کھولے انھیں دیکھتے رہے . کتنے سال گزر گئے تھے بی جان کو دیکھے۔ 

وہ بغیر پلک جھپکے انھیں دیکھتے جا رہے تھے.آنسو انکے چہرے کو بھگوے جا رہے تھے.

اچانک بی جان اٹھیں اور ان پر پھونک مارنے انکے پاس آئیں تو انھوں نے رحمان صاھب کو ہوش میں پایا .

"بی جان ".رحمان صاھب نے بی جان کا نام سرگوشی میں پکارا تو بی جان نے انکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا.

"بولو میرے بچے ماں صدقے " بی جان نے کہا. 

اس آواز کو وہ پچھلے بیس سال سے مس کر رہے تھے .ان ہاتھوں کے لمس کے لئے وہ پچھلے بیس سال سے ترس رہے تھے.

وہ یک ٹک انھیں دیکھتے جا رہے تھے.اگر یہ خواب تھا تو انکی خواہش تھی کہ یہ خواب کبھی نہ ٹوٹے.

اگر یہ جھوٹ تھا تو اس جھوٹ کو وہ سچ ما ن لینا چاہتے تھے.

رحمان صاحب کے آنسوں انکے چہرے کو بھگوے جا رہے تھے اور بی جان بھی روئی جا رہیں تھیں.

دونوں نے ایک دوسرے سے نہ کوئی شکوہ کیا تھا نہ کوئی شکایت .وہ ماں بیٹا بغیر کچھ بولے خاموشی سے روتے جا رہے تھے.

"کہا جاتا ہے خاموشی کی بھی زبان ہوتی ہے تو ہاں خاموشی کی بھی زبان ہوتی ہے.ان ماں بیٹے نے ایک دوسرے کے دکھ کو بغیر کہے محسوس کر لیا تھا."

اسی وقت رضا دروازہ کھول کر اندر آیا تو رحمان صاحب نے اسکی طرف دیکھا .

اسکی آنکھیں بلکل لال اور سوجی ہوئی تھیں.ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ بہت سا رویا ہو.

یہ رضا اس رضا سے بلکل مختلف تھا جو لا ابالی سا تھا.سنجیدگی سے تو رضا کا کوئی واسطہ تھا ہی نہیں.

بے اختیار انہوں نے اسے آواز دی.

"رضا " .رحمان صاحب نے پکارا 

تو رضا فورن انکے پاس گیا .بی جان اپنے آنسو پونچھتے ہوے پیچھے ہٹیں.

جیسے ہی رضا انکے قریب گیا تو انہوں نے اسے پکڑ کر اپنے سینے سے لگایا .

"بابا ! میں ڈر گیا تھا ".وہ انکے سینے سے لگا روتے ہوے کہ رہا تھا .انہوں نے جوابن کچھ کہنے کے بجاے اپنی گرفت اس پر مضبوط کی اور کہا 

"اب میں ٹھیک ہوں بچے " لیکن رضا کسی چھوٹے بچے کی طرح انکے ساتھ لپٹا ہوا تھا ۔

انھیں رضا اٹھارہ سال کا نہیں بلکہ آٹھ سال کا لگ رہا تھا جو دنیا کے ڈر سے باپ کے بازوں میں سمائے جا رہا ہو.

بی جان تو یہ منظر دیکھ کر روے جا رہیں تھیں جبکہ اندر آتے آغا جان نے جب رضا کا یہ جملہ سنا 

"میں ڈر گیا تھا بابا " وہ وہیں سے واپس پلٹ گئے تھے.انھیں واپس آتے اور جاتے کسی نے نہیں دیکھا تھا .

شفا کدھر ہے رضا ! رحمان صاھب نے پوچھا 

وہ گھر گئی تھی.رضا نے جواب دیا 

میں اسے لے کر آتا ہوں.اسنے کہا تو رحمان صاحب نے سر ہلا دیا 

۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔

آغا جان اپنے روم میں بیٹھے تھے اور رضا کا جملہ انکے کانوں میں گونج رہا تھا .

"بابا میں ڈر گیا تھا " .

انکا رحمان بھی تو چھوٹا تھا جب انہوں نے اسے خود سے اور گھر والوں سے دور کیا تھا .

"تب اس پر کیا گزری ہو گی ؟"

پھر انھیں ماہ خانم یاد آئ .اسکا رونا فریاد کرنا یاد آیا .

پتا نہیں کیسی ہو گی وہ ؟ انہوں 

نے رک کر سوچا۔

لاوارثوں کی طرح انہوں نے اسے گھر سے نکالا تھا .

انھیں ماہ خانم کا بچپن یاد آرہا تھا .انھیں رحمان صاھب کا لڑکپن یاد آرھا تھا .

وہ دو بچے جو انکے دل کے بیحد قریب تھے انہوں نے انہی دونوں کو دنیا میں تنہا چھوڑ دیا تھا .

آنسوں انکی کنپٹیوں پر بہہ رہے تھے. 

"میں رحمان سے نظریں کیسے ملاؤں گا "؟

مینے اسے اسکے بھائیوں سے ، اسکی ماں سے دور کر دیا .اسے اس بات کی سزا دی جسکا وہ حقدار ہی نہیں تھا .

اور ماہ خانم کی تو مینے بات ہی نہ سنی تھی.

وہ اس وقت خود احتسابی کے عمل سے گزر رہے تھے .انھیں اپنا آپ مجرم لگ رہا تھا .

انھیں بی جان کا رونا یاد آیا .انہوں نے ایک ماں کو اسکے بیٹے سے دور کر دیا تھا .

"وہ سوچتے جا رہے تھے اور آنسو انکی آنکھوں سے بہتے جا رہے تھے.

۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔

"مینے تم سے کچھ بات کرنی ہے "؟ شہام نے انوشہ سے کہا 

وہ اس وقت لان میں بیٹھی ہوئی تھی.

اسنے نظریں اٹھا کر شہام کو دیکھا جو اس وقت بلیک پینٹ اور وائٹ شرٹ میں ملبوس تھا .

جی ؟ انوشہ نے کہا 

شہام نے ایک نظر اسے دیکھا اور کرسی گھسیٹ کر اسکے سامنے بیٹھ گیا .

اسے سمجھ نہیں آرھا تھا کہ وہ کہا سے بات شروع کرے .

پھر اسنے گہری سانس لی اور کہنا شروع کیا .

آگے کا کیا سوچا ہے تمنے ؟ شہام نے کہا 

مطلب ؟ انوشہ نے جوابن اس سے سوال کیا 

"مطلب یہ کہ ایسے زندگی نہیں گزرتی جیسی تم گزار رہی ہو " .شہام نے کہا 

وہ اسے دیکھتی رہی اور پھر بولی " میں ٹھیک 

زندگی گزار رہی ہوں."

شہام اسے غور سے دیکھتا رہا تب تک وہ ادھر ادھر دیکھتی رہی.

"ایسا تمہیں لگتا ہے کہ تم نارمل زندگی گزار ہی ہو .لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے . تم نے تایا ابّو اور تائی امی کے مرنے کے بعد خود کو ایک ہی جگہہ روک لیا ہے.زندگی کسی کے لئے نہیں ٹھرتی انوشہ .حادثات سب کے ساتھ ہوتے ہیں.لیکن اپنے آپکو ایک ہی جگہہ انسان نہیں ٹہرا سکتا ".شہام نے اسے سمجھاتے ہوے کہا 

"میرا دکھ آپ نہیں سمجھ سکتے .بلکہ کوئی بھی نہیں سمجھ سکتا .میں نے اپنے ماں ، باپ کو کھویا ہے .اور آپ چاہتے ہیں کہ میں قہقہے لگاؤں ؟ انوشہ نے کہا 

"کسی کے چلے جانے سے زندگی روک نہیں جاتی.میں مانتا ہوں کہ تمہارا غم بڑا ہے .میں تمہارے غم کو نہیں محسوس کر سکتا لیکن دادو بھی تو ماں تھیں ناں ؟ میرے بابا ، مستقیم چچا تمہارے بابا کے بھائی تھے .انہوں نے بھی تو خود کو سنبھال لیا .تم نے تو اپنے ماں باپ کے ساتھ صرف کچھ ہی سال گزارے ہیں لیکن جن لوگوں نے انھیں پالا تھا جن کے ساتھ وہ بڑے ہوے تھے انہوں نے بھی تو خود کو سنبھال لیا .کس کے لئے ؟ تمہارے لئے .کبھی غور سے دادو کو دیکھنا تمہارے اس عجیب سے رویے سے وہ کتنی پریشان ہیں تمہیں کوئی اندازہ نہیں .تمہارے لئے تو صرف تمہارا دکھ بڑا ہے".شہام نے تیز لہجے میں کہا 

انوشہ کی آنکھوں سے آنسو گرتے رہے .

"ہاں انہوں نے خود کو سنبھال لیا کیونکہ انکے پاس سب تھے ، زندگی گزارنے کا مقصد تھا .میرے پاس تو کچھ رہا ہی نہیں "وہ روتے ہوے بولی 

شہام نے اسکی گلابی ہوتی آنکھوں کو ایک نظر دیکھا اور پھر کہا 

"ہم سب تمہارے ہیں .ہمارے لئے زندگی کو جیو.وہ یہ نہ کہ سکا کہ میرے لئے زندگی کو جیو."

انوشہ نے اسے دیکھا اور کہا 

"مجھ سے نہیں ہوگا کچھ بھی .مجھے کچھ نہیں بھولتا .تو شہام کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا اور گھٹنوں کے بل جا کر اسکے سامنے بیٹھ گیا .

"تمہیں بھولنا ہوگا .میں چاہتا ہوں کہ تم میرے لئے خواب دیکھو .میرے لئے زندگی کو جیو.

میں بہت پریکٹیکل بندہ ہوں.ڈائلوگز بولنا مجھے نہیں آتے اسلئے نہ میں بہت سے وعدے کرونگا اور نہ قسمیں کھاونگا ۔ لیکن اس بات کی گرنٹی دیتا ہوں جب تک زندہ رہوں گا تمہاری خوشی میرے لئے اہم ہو گی." 

انوشہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھتی رہی .

"کیا تم میری خوشیوں اور غم میں میری ساتھی بنو گی "؟

شہام نے اپنا ہاتھ اسکے آگے پھیلاتے ہوے کہا 

انوشہ کو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا جواب دے .

ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ شہام نے کہا 

"لڑکی کی خاموشی کو ہاں سمجھا جاتا ہے ."

میں ہانیہ چچی سے پوچھ کے بتاؤں گی ؟ انوشہ نے گڑبڑ اتے ہوے کہا 

"حد ہے لڑکی ! تم میری ماں کو جا کر بولو گی کہ آپ کے بیٹے نے مجھے پرپوز کیا ہے.آپکی کیا رائے ہے ؟ شہام نے مسکراتے ہوے کہا 

انوشہ سے کوئی جواب نہ بن پڑا .وہ اس وقت اس سے نروس ہو رہی تھی .حالانکہ شہام اسکا دوست بھی تھا لیکن اس وقت اسکی نظروں سے اسے جھجک ہو رہی تھی.

وہ اٹھ کر اندر جانا چاہ رہی تھی لیکن سامنے ہی وہ بیٹھا تھا .

تو پھر کب پوچھو گی مما سے ؟ شہام نے مسکراتے ہوے کہا 

مجھے اندر جانا ہے .انوشہ نے کہا 

"ہاں جاؤ لیکن جواب دیکر جاؤ ".شہام نے کہا 

"مجھے نہیں پتا " انوشہ نے ادھر ادھر دیکھتے ہوے کہا تو شہام نے کہا 

"میں تمام زندگی تمہارا انتظار کر سکتا ہوں لیکن موت کسی کا انتظار نہیں کرتی .اسلئے جلد جواب دینے کی کوشش کرنا .کیا پتا جب تم ہاں کرو تو میں اس دنیا میں ہی نہ ہو " یہ کہ کر وہ اسکے آگے سے اٹھ کر اندر چلا گیا .

جبکہ وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اسکی پیٹھ کو گھورتی رہ گئی کہ یہ موت کی بات کیسے کر گیا .

۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔

آغا جان کمرے میں ہیں ؟ شاہ زیب خان نے گل جان سے پوچھا 

"جی ".انہوں نے جواب دیا 

"اچھا تم چائے وہی لے کر آنا ". یہ کہ کر وہ خود آغا جان کے کمرے کی طرف بڑھ گئے .

آغا جان کے کمرے کا دروازہ آدھا کھلا ہوا تھا .انھیں حیرت ہوئی کیونکہ آغا جان ہمیشہ دروازہ بند کرتے تھے .وہ ناک کر کے اندر داخل ہوے .

کمرے کی لائٹس آن تھیں اور آغا جان ایزی چئیر پر بیٹھے تھے .

"آغا جان " شاہ زیب خان نے انھیں پکارا 

کوئی جواب موصول نہیں ہوا تو انہوں نے پھر کہا 

"آغا جان " .

پھر کوئی جواب موصول نہیں ہوا تو انھیں عجیب سا لگا کیونکہ آغا جان کی نیند بہت کچی تھی.

"انہوں نے آگے بڑھ کر انکا شانہ ہلایا تو انکا سر ایک طرف ڈھلک گیا ."

"آغا جان! انہوں نے زور سے انھیں ہلاتے ہوے کہا 

زعیم ، صارم !انہوں نے بچوں کو آواز دی .

کمرے سے شاہ زیب خان کی آواز سن کر لاونج میں بیٹھے صارم اور معیز آغا جان کے کمرے کی طرف بھاگے .

وہاں جا کر انکے قدم جم گئے .

"شاہ زیب خان آغا جان کے قدموں میں سر جھکاے بیٹھے تھے .

"بابا ! صارم آگے بڑھا اور شاہ زیب خان سے کہا 

"کیا ہوا ہے بابا ".

"آغا جان ہم میں نہیں رہے ". انہوں نے جواب دیا 

انکی بات سن کر کمرے کے اندر آتی افرا کے ہاتھوں سے ٹرے گر گئی .

اور کچھ ہی دیر میں انکا گھر چیخوں سے گونج اٹھا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔

ماہ خانم شہام کا ہی انتظار کر رہیں تھیں.آج وہ بہت لیٹ ہوگیا تھا .

جیسے ہی وہ گلاس ڈور کھول کر اندر داخل ہوا تو ماہ خانم کو جاگتے پایا 

"آپ ابھی تک جاگ رہیں ہیں چچی "اسنے کہا 

"ھاں ! تمہارا انتظار کر رہی تھی. خیریت اتنی دیر کیوں ہوئی شہام ؟ ماہ خانم نے پوچھا 

"میں ابھی میت والے گھر سے آیا ہوں .میرا فرینڈ ہے .اسکے دادا کا انتقال ہوا ہے." شہام نے بتایا 

"اچھا ! الله مغفرت کرے ".ہوا کیا تھا انھیں ؟ ماہ خانم نے پوچھا 

"ہارٹ اٹیک ھوا ہے"۔ شہام نے جواب دیا

"کل مجھے بھی اپنے ساتھ انکے گھر لے کر جانا .میں بھی تعزیت کروں گی."ماہ خانم نے کہا 

"جی ! میں کھانا نہیں کہا ونگا .چاے بھجوا دیں بس ".کہتے ہوے اٹھ کر وہ اپنے روم میں چلا گیا .

اور ماہ خانم چاے بنانے چلی گئیں .

۔۔۔۔*۔۔۔۔۔

اس وقت ماہ خانم شہام کے ساتھ اسکے دوست کے گھر جا رہیں تھیں.

گاڑی سڑک پر رواں دواں تھی.

جیسے ہی شہام نے دائیں طرف کی سڑک پر ٹرن لیا ماضی کی یادوں نے ماہ خانم کے دماغ پر حملہ کر دیا .

"یہ راستہ وہ کیسے بھول سکتی تھیں.

یہ انکے گھر کا راستہ تھا ، انکے میکے کا راستہ "

عرصہ دراز سے انکا گزر یھاں نہیں ہوا تھا .

"سڑک کی طرف دیکھتے دیکھتے کب انکی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہوے انھیں پتا ہی نہیں چلا ".

"یہی تو وہ سڑک تھی جہاں سے گزر کر وہ پہلے سکول جاتی تھیں ."وہ کیسے یہ راستہ بھول سکتی تھیں.

اچانک گاڑی رکی .انہوں نے چونک کر سامنے دیکھا تو انھیں ٹینٹ لگا نظر آیا .

اس جگہہ سے بس تھوڑا سا آگے خان ولا تھا .انہوں نے دل میں سوچا 

"چچی آئیں "شہام نے انھیں پکارا تو وہ گاڑی سے نکلیں .

وہ انھیں لئے آگے بڑھا .زعیم جو اس وقت باہر ہی کھڑا تھا جیسے ہی اسکی نظر شہام پر پڑ ی تو وہ فورن اسکی طرف آیا .

وہ دونوں ایک دوسرے سے گلے ملے پھر شہام نے کہا 

"یہ میری چچی ہیں "زعیم نے انھیں سلام کیا 

"وعلیکم سلام !" انہوں نے جواب دیا 

"آئیں میں آپکو اندر لے کر چلتا ہوں ."زعیم نے ماہ خانم کو کہا 

"اور شہام سے کہا ! تم بابا سے مل لو .انھیں تم سے کچھ کام ہے." 

تو شہام نے ماہ خانم کو کہا 

" میں باہر ہوں چچی " 

"اوکے بیٹا ". ماہ خانم نے مسکرا کر کہا اور زعیم کے ساتھ چل دیں .

زعیم جس گھر کے سامنے جا کر کھڑا ہوا تو ماہ خانم کے قدموں نے اٹھنے سے انکار کر دیا .

"یہ خان ولا تھا .وہ خان ولا جہاں سے انکو نکالا گیا تھا .وہ اس خان ولا کے سامنے کھڑی تھیں.

"آنٹی آئیں "زعیم نے پیچھے مڑ کر ماہ خانم کو دیکھا 

وہ اسے پیلی سی لگیں.

"آپکی طبیعت ٹھیک ہے آنٹی "؟ زعیم نے پوچھا 

وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے گھر کو دیکھتی رہیں.

"اتنے میں گھر کا چھوٹا دروازہ کھول کر جہاں زیب خان باہر نکلے اور ماہ خانم کو دیکھ کر شاکڈ ہو گئے .تب تک ماہ خانم بھی انھیں دیکھ چکی تھیں.

ماہ خانم نے پلٹنا چاہا لیکن انکے قدموں نے چلنے سے انکار کر دیا تب تک وہ ماہ خانم تک پہنچ چکے تھے .

"بھائی! ماہ خانم کے ہونٹوں نے سرگوشی کی.

انھیں لگا ابھی وہ انھیں وہاں سے جانے کا کہیں گے لیکن حیرت کا جھٹکا تب لگا جب جہاں زیب خان نے انکے سر پر ہاتھ پھیرا 

"اندر آؤ !" انہوں نے رندھے ہوے لہجے میں کہا 

"آغا جان برا مانیں گے ". ماہ خانم نے کہا 

"آغا جان کو گزرے آج دوسرا دن ہے ماہ " جہاں زیب خان نے کہا 

"پھر ادھر ادھر دیکھا ارد گرد سے گزرنے والے لوگ انھیں رک کر دیکھ کر جا رہے تھے تو جہاں زیب خان نے ماہ خانم کو بازو سے پکڑا اور اندر لے گئے .وہ انکے ساتھ گھسیٹی جا رہیں تھیں.قدم انکا وزن اٹھانے سے قاصر تھے .وہ انھیں لے کر لاونج میں گئے .جہاں اس وقت سب موجود تھے .

بیس سال کے بعد انکے قدموں نے اس گھر کی چوکھٹ کو چھوا تھا .

انکے لاونج میں جاتے ہی خاموشی چھا گئی .

"ماہ ! میری ماہ خانم " سب سے پہلی آواز بی جان کی تھی.

"وہ انکی طرف بڑھیں تو انہوں نے اپنے بازو وا کر دیے .اور ماہ خانم انکی گود میں منہہ چھپا کر رونے لگیں.

"بی جان آغا جان کیوں چلے گئے ؟ مینے ان سے معافی مانگنی تھی .میں ہر روز ہمّت جمع کرتی تھی لیکن آغا جان کے غصّے سے کبھی ادھر آنے کی ہمّت ہی نہ کر پائی .میں بہت بد قسمت ہوں.وہ روتے ہوے بولتی جا رہیں تھیں.اور بی جان کو بھی رلاتی جا رہیں تھیں.

باقی سب بھی رو رہے تھے.بیس سال کے بعد اس گھر میں ماہ خانم کی آواز گونج رہی تھی.

پنچھی اپنے گھر واپس آگۓ تھے لیکن افسوس رکھوالا نہیں رہا تھا ."

۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔

سپارہ پڑھتے ہوے بھی انکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے .

"پہلے وہ اپنے گھر والوں سے ملنے کی تڑپ میں روتی تھیں.اور اب آغا جان کی جدائی میں."

"وہ کبھی کبھی سوچتیں کہ کیا وہ اتنی بد قسمت تھیں کہ انھیں معافی مانگنے کا موقع نہیں ملا .

انھیں کیا معلوم تھا کہ الله نے تو پہلے ہی آغا جان کا دل نرم کر دیا تھا .وہ انھیں معاف کر چکے تھے .

بیشک الله انسان کی نیّت سے واقف ہے اور ماہ خانم کی نیّت سے بھی خدا واقف تھا .اسلئے ہی تو الله نے آغا جان کا دل انکے لئے نرم کر دیا تھا .وہ ماہ خانم کو معاف کر چکے تھے.لیکن یہ بات ماہ خانم کو کون بتاتا .

کچھ راز صرف الله اور بندے کے درمیان ہوتے ہیں .اور یہ راز آغا جان اور الله کے درمیان تھا تو کسی اور کو کیسے معلوم ہوتا . یہ بات آغا جان کے ساتھ ہی دفن ہو چکی تھی .

۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔

آغا جان کے مرنے کے بعد بی جان کے کہنے پر رحمان صاحب واپس خان ولا آگئے تھے.

"زندگی پھر سے رواں دواں تھی."

"کچھ لوگوں کا ساتھ چھوٹا تھا لیکن زندگی پھر سے چل پڑ ی تھی.دن اسی طرح گزر رہے تھے ".

۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔

"تو جناب اس وقت ناگن ڈانس پیش کیا جانے لگا ہے اور 

ڈانسر کا نام ہے المعروف معیز خان."

"تالیہ تالیہ" 

شفا اس وقت لاؤنج میں بیٹھی زور و شور سے ہوسٹنگ کر رہی تھی.

معیز جو ابھی کرکٹ کھیل کر آیا تھا اس اعلان پر 

اسے گھورنے لگا ۔

"کوئی نہیں!پچھلی دفعہ بھی مینے کیا تھا" .معیز نے کہا 

"مجھے تو آتا ہی نہیں ".شفا نے سفید جھوٹ بولا جس پر رضا کی آنکھیں کھلی رہ گئیں .

" آپی آپ قسم کھائیں کہ آپکو نہیں آتا ".رضا نے کہا 

کیوں قسم کھاوں ؟ شفا نے کہا 

"مطلب آپ جھوٹ بھول رہیں ہیں ".رضا نے کہا 

اتنے میں جبیں بیگم نے رضا کو باہر بلایا تو وہ بات ادھوری چھوڑ کر باہر چلا گیا .

"ویسے معیز کافی دن ہو گئے ہیں تمنے اپنا کوئی کلام نہیں سنایا ".افرا نے کہا 

"اب میں بڑا انسان ہو گیا ہوں .اسلئے چھوٹے موٹے لوگوں کو اپنے کلام نہیں سناتا ".معیز نے مدبّر بنتے ہوے کہا 

"بڑا آیا بڑا آدمی"شفا نے کہا 

اور افرا سے کہا 

"تم کل کہہ رہی تھی کہ بچپن کی البم دکھاؤ گی."

"ارے ہاں ! رکو میں لے کر آتی ہوں." افرا کہ کر البم لینے چلی گئی.

تھوڑی دیر کے بعد وہ البم لے کر آگئی .

اب وہ لوگ تصاویر دیکھ رہے تھے .

"معیز تم بچپن میں کافی پیارے تھے .اب کیا ہو گیا ہے تمہیں ؟شفا نے معیز کو کہا 

"نہ پوچھو میری بہن .تمہارے بھائی کو نظر لگی ہے " معیز نے جواب دیا 

نظر اور تمہیں ؟افرا نے کہا 

"نظر بھی تمہیں دیکھ کر بھاگ جاے گی۔"افرا نے شفا کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا 

"تمہیں پتہ نہیں ہے ابھی میری خوبصورتی کا ۔یونی میں لڑکیاں میری خوبصورتی پر مرتی ہیں۔"معیز نے کالر کھڑے کرتے ہوئے کہا 

"ہاں تو بیچاریاں خوف سے مرتی ہونگیں۔ہم تو بچپن سے یہ خوفناک شکل دیکھ دیکھ کر عادی ہوگئے ہیں"۔افرا نے کہا 

معیز نے اس دفعہ جواب دینے کے بجائے گھورنے پر اکتفا کیا

یہ کون ہے؟ شفا نے ایک خوبصورت سے بچے کی تصویر کو اوپر کرتے ہوئے کہا

"یہ زعیم بھائی ہیں" ۔۔معیز نے جواب دیا 

ہیں واقعی؟ شفا نے حیرانگی سے پوچھا 

ہاں کیوں ؟ معیز نے ہنستے ہوئے کہا 

"یہ تم دیکھو ناں یہ تصویر میں مسکرا رہے ہیں ۔اب اگر انکو دیکھو تو ایسا لگتا ہے انکے ہنسنے پر گورنمنٹ نے ٹیکس لگایا ہو"۔شفا نے کہا 

معیز کی نظر اندر آتے زعیم پر پڑ چکی تھی ۔

شفا نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا 

ا"صل میں پتہ بات کیا ہے ؟ انکو لوگوں نے بتایا ہوگا کہ یہ ہینڈ سم ہیں اسلئے یہ سر چڑھتے جارہے ہیں ۔اور پھر رہی سہی کسر بی جان اور تائی امی نے پوری کر دی ہے۔شہزادہ عالم بنا کر رکھا ہے انکو۔جسکی وجہ سے یہ سڑیل ہوتے جارہیں ہیں ۔ویسے افرا کیا یہ شروع سے ہی ایسے ہیں یا اب ہوئے ہیں ؟"

معیز نے اشارے سے اسے چپ ہونے کا کہا لیکن شفا صاحبہ بولتے ہوئے ادھر ادھر دیکھنا بھول چکی تھیں۔

شفا نے گوہر افشانی مزید کرتے ہوئے فرمایا 

"بندے کو اپنے اوپر غرور کرنا چاہیے لیکن اتنا بھی نہیں جتنا زعیم بھائی کرتے ہیں۔وہ اپنے آپکو کسی نگری کا شہزادہ سمجھتے ہیں ۔لیکن حقیقت میں کوہ قاف کےجن ہیں ۔"

"شفا! افرا نے اب اسکا نام لیا تو وہ بولی 

"ہاں ناں سچ کہہ رہیں ہوں۔اب تم دیکھو "ابھی جملہ اسکے منہ میں ہی تھا کہ اسنے زعیم کی آواز سنی اور اچھل پڑی

"افرا !میرے لئے چائے لیکر آو۔"

اور شفا صاحبہ آپ آئندہ کے بعد میرے بارے میں کمنٹ کرنے سے گریز کیجئے گا۔"

"اور ہاں ایک چیز اور میں کلئیر کرنا چاہتا ہوں۔میں بہلے ہی اپنے آپکو شہزادہ عالم سمجھو یا نہ سمجھو لیکن آپکو ایک انتہائی بد تمیز لڑکی سمجھتا ہوں جسے بات کرنے کی بھی تمیز نہیں ہے۔"

یہ کہ کر وہ وہاں سے چلا گیا۔

جبکہ شفا اپنے کمرے میں چلی گئی۔

"افرا اسکے پیچھے گئی تھی لیکن تب تک شفا کمرہ لاک کر چکی تھی۔وہ دروازہ ناک کرتی رہی جب اسنے نہیں کھولا تو وہ دوبارہ لاونج میں آگئی۔جہاں معیز اور صارم بیٹھے تھے۔"

کیا ہوا ؟ معیز نے پوچھا

دروازہ بند کر دیا ہے ۔افرا نے بتایا 

"یار بھائی کو ایسے نہیں بولنا چاہیے تھا "صارم نے کہا 

"ویسے یار حیرت ہے ۔زعیم بھائی اتنا روڈ کسی کے ساتھ نہیں ہوتے جتنا اسکے ساتھ ہوئے ہیں "۔افرا نے کہا 

"پتہ نہیں کیا بات ہے۔"میں نے اسے آشارہ بھی کیا تھا کہ بھائی آگئے ہیں لیکن وہ سمجھی ہی نہیں "۔معیز نے کہا

"میں چائے بنا لو جاکر ۔ورنہ اگلی ڈانٹ مجھے پڑے گی۔افرا نے کہا 

"ہمارے لئے بھی بنانا"۔معیز نے کہا 

"کوئی اور وقت ہوتا تو وہ معیز سے بحث کرتی لیکن اس وقت اسکا دماغ شفا میں الجھا تھا ۔"

وہ سر ہلاتی کچن میں چلی گئی۔

۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔
جاری ہے


Post a Comment

0 Comments