Aik Phal Ki Muhabat :
ڈپلیکیٹ چابی سے دوازہ کھول کر جیسے ہی وہ اندرداخل ہوا تو اندھیرے کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔سوئچ بورڈ پر ہاتھ مار کر لائٹ جلائی۔
روشنی ہوتے ہی سب کچھ وا ضح طور پر پر نظر آنا شرو ع ہو گیا۔
لاؤنج میں پڑے صوفے پر کمبل گولہ بنا کر رکھا ہوا تھا۔
لاؤنج سے گزرتا ہوا شارب جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا۔ تو سامنے کا منظر دیکھ کر گہری سانس لے کر اسکی طرف بڑھا ۔اور اسکو سیدھا کر کے لٹاکر کمرے سے باہر نکل آیا۔ تا کہ کھانے کا کچھ کر سکے ۔کیوں کے اسنے اور راھم نے کل سے کچھ نہیں کھایا تھا۔
اسکا موڈ کچھ بنانے کا نہیں کر رہا تھا۔ لیکن بھوک لگی ہوئی تھی
اس لئے فرج کھول کر دیکھا۔ اور کل کی رکھی ہوئی بریانی نکال کر گرم کی ۔اور ٹرے میں رکھ کر راہم کے کمرے میں چلا گیا۔
اس نےکھٹکے کی آواز پر دروازے کی طرف دیکھا اور شارب کو دیکھ کر راہم کے چہرے پر حصّے کے آثار آنا شرو ع ہو گئے.
اس سے پہلے کے وہ اسے کچھ کہتا شارب نے خُود اسے مخاطب کیا اور کہا ۔
"آؤ جانی پہلے کھانا کھا لو"۔اس نے غصیلی نظروں سے شارب کو دیکھا اور کہا !
"کیا کرنے آۓ ہو.جاؤ انہی کے پاس جنکی تم سائیڈ لے رہے تھے"۔
شارب نے ا سکی باتوں کو نظر انداز کرتے ہو ۓ کہا
"چھوڑ یار بعد میں اس سلسلے میں بات کریں گے۔ابھی آؤ کھانا کھاؤ"۔
"یہ دیکھ میں ہاتھ جوڑ رہا ہوں۔ابھی اور اسی وقت یہاں سے دفع ہو جاؤ۔ ورنہ میں تمہاری اس فسادی کزن کے ساتھ ساتھ تمہارا بھی قتل کر دونگا۔جسکے ساتھ تم سب لوگوں نے میرا نکاح پڑھوایا ہے"۔
وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا اور پھر گہرا سانس لے کر گہنے لگا!
"یار اسکے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ اور وہ ایک اچھی لڑکی ہے"۔
راہم یہ سنتے ہی تپ گیا ۔
"ہاں میں اچھا لڑکا نہیں ہوں۔ اسلئے میں اس اچھی لڑکی کو ڈیزرو نہیں کرتا۔ لیکن تم سب نے مل کر میرے ساتھ جو کیا ہے ۔اسکو میں کبھی معاف نہیں کرونگا۔یہ بات تم بھی یاد رکھنا اور گھر والوں کو بھی بتانا"۔
یہ بات سن کر وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ آخر وہ کیسے راھم کو سمجھاۓ۔
کیوں کے گھر والوں نے اسے اسی سلسلے میں راھم کے پاس بھیجا تھا کہ کسی طرح وہ اسے قائل کرے۔ اور خزینہ کی رخصتی راہم کے ساتھ ہو جائے۔
لیکن وہ کچھ سننے کے موڈ میں نہیں تھا.
شارب نے سیل فون اٹھا کر چچا کو کال ملائی۔ اور انکو سب بتانا شروع کیا۔
۔۔۔۔۔*۔۔۔ ۔
عبید شاہ اور عزیر شاہ دونوں بھائی تھے ۔اور دونوں ہی ایک دوسرے سے بیحد پیار کرتے تھے ۔اسی لئے انکا گھرانہ آج تک محبّت کی ڈور سے بندھا ہوا تھا۔
عبید شاہ کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔سکندر عبید,محتشم عبید,شارب عبید اور بیٹی اریج تھی۔
سکندر عبید اور محتشم عبید کو تعلیم مکمل کرتے ہی ازداوجی رشتے میں باند ھ دیا گیا تھا۔
اور وہ اپنے والد اور چچا کے ساتھ فیکٹر ی جاتے تھے۔ جبکہ شارب راہم کے ساتھ ایم -بی -اے کے آخری سال میں تھا۔ اور بہن اریج میرڈ تھی۔
جبکہ عزیر شاہ کی دو اولادیں تھیں ۔وجیہہ عزیر اور راہم .
عبید شاہ اور عزیر شاہ کی ایک بیوہ بہن حسینہ بیگم اپنی بیٹی خزینہ کے ساتھ بھائیوں کے پاس رہتی تھیں۔
کیونکہ انکے سسرال والوں نے خزینہ کے والد کے انتقال کے بعد انکی اور انکی بیٹی کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔ تب وہ اپنی بیٹی کو لے کر اپنے بھائیوں کے پاس آگئی تھیں۔
اور تب سے آج تک وہ انکے پاس تھیں۔ اور بھائی بھی ان سے اور خزینہ سے بیحد پیار کرتے تھے.
لیکن خزینہ میں جو احساس کمتری باپ کے مرنے کے بعد پیدا ہوئی تھی وہ آج تک ختم نہیں ہو پائی تھی۔
جسکی وجہ سے راہم کی والدہ شہناز بیگم اور شارب کی والدہ منزہ بیگم بھی خزینہ سے بیحد پیار کرتی تھیں
اسی وجہ سے راہم اور شارب کو اس سے حسد ہونا شروع ہوا تھا۔
لیکن بچپن ختم ہوا تو شارب نے بہت سی باتوں کو سمجھنا شرو ع کیا کہ خزینہ میں احساس کمتری تھی.۔
جسکو ختم کرنے کے لئے گھر والے اس سے زیادہ پیار کرتے تھے۔یہ بات سمجھ آتے ہی شارب کا رویہ اسکے ساتھ بہتر ہو گیا تھا۔اور وہ اسے اپنی بہن کی طرح خیال کرنے لگ گیا تھا۔
جبکہ راہم آج تک اپنے دل میں سے بچپن کی باتوں کو نہ نکال سکا تھا ۔ وہ اب بھی موقع دیکھ کر خزینہ کو ڈانٹ دیتا تھا۔
جسے سن کر وہ خاموشی سے رو دیا کرتی تھی ۔
اسکی اسی خاموشی کی وجہ سے وہ ڈھیٹ ہو رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔ ۔
آج سکندر عبید کی سالی کی منگنی کی تقریب تھی۔خزینہ کو چونکہ بخار تھا اس لئے وہ گھر پر ہی تھی۔
سب کے جانے کے بعد خزینہ اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گئی۔
ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی.۔
اسنے جا کر دروازہ کھولا تو سامنے اسکے تایا اور تا ئ کھڑے تھے۔ وہ انھیں لے کر ڈرائنگ روم میں آگئی۔ اور تھوڑی دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد وہ انکی خاطر مدارات کرنے کے لئے اٹھ کر کچن میں چلی آئی۔۔
اور اپنی امی کو کال کی!
" تایا لوگ آئیں ہیں۔آپ لوگ جلدی گھر آ جائیں"۔ اس نے حسینہ بیگم سے کہا۔
حسینہ بیگم نے اسے تسلی دے کر فون بند کر دیا.
آدھ گھنٹے کے بعد حسینہ بیگم اپنے بھائیوں سمیت گھر آ چکی تھیں۔
انکے آتے ہی خزینہ اٹھ کر اپنے کمرے میں جا کر سو گئی۔
جب وہ اٹھ کر کمرے سے باہر آ ئ تو اسے گھر میں غیر معمولی خاموشی کا احساس ہوا ۔
اسنے حسینہ بیگم سے کہا !گھر میں عجیب سی خاموشی کیوں ہے؟"
تو انہوں نے کہا
" نہیں تو! تمہے ایسا کیوں لگ رہا ہے؟ " وہ خاموشی سے انکا چہرہ دیکھتی رہ گئی .
اسکو اپنی طرف تکتا پا کر انہوں نے کہا
" کچھ نہیں ہوا ہے ۔اور تمہیں بلا وجہ پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔"
اسنے مزید ضد نہیں کی ۔کیوں کے اسے معلوم تھا کہ وہ نہیں بتائیں گیں۔ اسلئے دل ہی دل میں بھابھی سے پوچھنے کا ارادہ کیا اور کہا !!
"امی میں بڑ ے ماموں کے پورشن سے ہو کر آتی ہوں"۔انہوں نے سر ہلا دیا۔تو وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے آگئی۔
لاؤنج میں اسے کوئی نظر نہ آیا تو وہ کچن کی طرف بڑھ گئی۔ جہاں اسکے اندازے کے مطابق بھابھی کام کر رہی تھیں۔
اسے دیکھا تو مسکرا کر بولیں
" آ ؤ آؤ!تمنے آج کیسے یہاں آنے کا ارادہ کر لیا "۔تو وہ ہنستے ہوے بولی
"اف بھابھی بس ٹائم ہی نہیں ملتا۔اچھا آپ بتائیں کیا کر رہی ہیں ؟"
"کھانا بنا رہی تھی "۔بھابھی نے جواب دیا
میں ہیلپ کرا دوں "؟ خزینہ نے کہا تو وہ بولیں
" نہیں چندا ہو گیا کام ۔تمہارے لئے کافی بناؤں؟" بھابھی نے اس سے پوچھا
نہیں بھابھی دل نہیں کر رہا .خزینہ نے جواب دیا
"کیوں دل کیوں نہیں کر رہا"۔بھابھی نے پوچھا
تو اسنے ان سے کہا "ایک بات سچ سچ بتائیں گیں؟"
"ہاںکیا پوچھنا ہے چندا ؟ "بھابھی نے اسکے گال پر ہاتھ رکھ کر پیار سے پوچھا تو اسنے روہانسے لہجے میں کہا
"تایا لوگوں نے کیا کہا ہے ؟" امی پریشان لگ رہی ہیں۔میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے ٹال دیا"۔
بھابھی نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر کہا
"وہ لوگ تمہارا رشتہ وقص کے لئے لے کر آ ۓ تھے"۔
یہ بات سن کر خزینہ کا رنگ فق ہو گیا۔
"بھابھی اب کیا ہوگا ؟" اس نے فق چہرے کے ساتھ شانزا سے پوچھا تو وہ بولیں
"تم پریشان کیوں ہو رہی ہو ؟" گھر والوں نے اسی وقت منع کر دیا تھا ۔بھابھی نے بتایا
تو خزینہ نے کہا
"اگر یہ چیپٹر کلوز ہو چکا ہے تو امی کیوں پریشان ہیں؟" بھابھی ایک لمحے کے لئے خاموش ہوئی اور پھر کہا
"کیونکہ تمہارے تایا لوگ کہہ کر گئے ہیں کے وہ کچھ دنوں کےبعد دوبارہ آ ئیں گے".
خزینہ یہ سنتے ہی کانپتی ٹانگوں کے ساتھ وہی بیٹھتی چلی گئی اور رونا شرو ع ہو گئی۔
تو بھابھی نے اسے ساتھ لگا کر پیار کیا اور تسلّی دی
"پریشان نہ ہو .پاپا ایسا نہیں ہونے دیں گے."
دوسری طرف عبید شاہ اور عزیر شاہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کےکیسے اس صورتحال سے نپٹیں۔ کیوں کہ خزینہ ان دونوں کو ہی اپنے بچوں کی طرح پیاری تھی وہ کسی بھی طرح اسکی زندگی برباد نہیں ہونے دے سکتے تھے۔
اچانک شہناز بیگم نے ایک مشورہ دیا ۔جسے سن کر انکو لگا کہ جیسے اندھیرے میں روشنی کی کرن ملی ہو۔
انہوں نے حسینہ بیگم کو بلایا اور انکے سامنے راہم اور خزینہ کا رشتہ رکھا تو حسینہ بیگم نے بغیر خزینہ سے پوچھے اسی وقت ہاں کر دی.
وہ کسی بھی حالت میں خزینہ کا رشتہ ان خود غرض لوگوں میں نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ جنہوں نے اپنے بھائی کی بیوہ اور یتیم بھانجی کو بھائی کے مرتے ہی گھر سے نکال دیا تھا۔
راہم اور شارب جو کہ لاہور میں فلیٹ لے کر پڑھائی کے سلسلے میں رہ رہے تھے۔انھیں ایمرجنسی میں کال کر کے گھر بلوایا گیا۔
جب وہ لوگ گھر آئے۔اور اچانک بلوانے کی وجہ معلوم کی تو انھیں راحم اور خزینہ کے نکاح کے بارے میں بتایا گیا ۔
جسے سن کر راہم ہتھے سے اکھڑ گیا ۔
" ایسے کیسے ہو سکتاہے بابا ؟ میں اس سے نکاح نہیں کر سکتا"۔راہم نے کہا
"وجہ؟" عزیر شاہ نے اسے دیکھا
"میں اسے پسند نہیں کرتا۔اور اس سے کبھی بھی شادی نہیں کرونگا۔"راہم نے کہا
کیوں؟انھوں نے غصے سے پوچھا
پوری زندگی یہ ہمارے سر پر سوار رہی ہے۔اب مزید میں اسے گھر میں نہیں برداشت کر سکتا ۔اور آپ کہہ رہے ہیں کہ اس سے شادی کر لو؟راہم نے کہا
یہ جواب سن کر عزیر شاہ کا پارہ ہائی ہو گیا ۔
انہوں نے اپنے بھائی کی طرف منہ کیا اور کہا
"میں جانتا ہونکہ شارب کا وجیہہ سے نکاح ہوا ہے۔ لیکن میں وجیہہ کا باپ آپ کو کھلے دل سے یہ بات کہہ رہا ہوں کے آپ شارب اور خزینہ کا نکاح پڑھوا دیں۔"
انہوں نے اپنی بات ختم کر کے سب پر ایک نظر ڈالی۔
وہاں موجود ہر فرد ساکن تھا۔
پھر راہم نے ہی اس سکوت کو سب سے پہلے توڑا اور کہا
"آپ ایسے کیسے کر سکتے ہیں بابا۔بچپن سے لے کر آج تک آپنے میری اور وجیہہ کی ہر چیز اسے دی۔ہم پر ہر طرح سے اسے برتری دی ۔ہم خاموش رہے۔ اور آج آپ میری بہن کا شوہر بھی اسے دے رہے ہیں ۔میں یہ نکاح نہیں ہونے دونگا۔"
عزیر شاہ نے ایک نظر اسے دیکھا ۔اور پھر وجیہہ کو آواز دی
"جی پاپا۔"وجیہہ جو کھڑکی سے لگی تمام باتیں سن رہی تھی ۔عزیر شاہ کی پکار پرکانپتی ٹانگوں کے ساتھ اندر کمرے میں گئی۔ تو انھوں نے اس سے کہا
"بیٹے ابھی اور اسی وقت اپنے اس بھائی کو بولو کے تمہیں میرا فیصلہ منظور ہے۔"
وجیہہ نے ایک نظر بابا پر ڈالی۔ وہ آنکھوں میں فخر لئے اسے دیکھ رہے تھے۔اسنے آنکھیں بند کیں اور کہا
"مجھے بابا کا ہر فیصلہ منظور ہے ۔"
یہ بولتے ہو ۓ ایک آنسو ٹوٹ کر آنکھ سے گرا لیکن اسکی زبان نہ لڑ کھڑائی ۔
اسکا جملہ مکمل ہو تے ہی انہوں نے راہم کو دیکھا اور کہا
"مٹی کی دیواروں پر حوصلہ نہیں کیا کرتے"۔
.اور پھر بغیر کسی کی طرف دیکھے کمرے سے چلے گئے۔
تو راہم اٹھ کر عبید شاہ کے پیروں میں آ کر بیٹھ گیا
" میں نکاح کرنے کے لئے تیار ہوں ۔جب آپ کہیں گے میں نکاح کر لونگا ۔لیکن شارب کا نکاح اس سے مت کریں.وجیہہ میں اتنا حوصلہ نہیں ہےکہ وہ یہ سب برداشت کر سکے۔"
عبید شاہ نے جیسے ہی سر ہلایا ۔
وہ اٹھ کر تھکے قدموں سے اپنے کمرے میں چلا گیا۔
۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف جب خزینہ کو راہم کے ساتھ نکاح کا علم ہوا تھا۔
تب سے وہ روئی جا رہی تھی۔ اورایک ہی بات کہی جا رہی تھی کے مجھے یہ نکاح نہیں کرنا۔"
اڑتی اڑتی یہ خبر عزیر شاہ کے کانوں میں بھی پہنچ چکی تھی کہ خزینہ بھی اس نکاح سے انکاری ہے۔تو وہ خزینہ سے بات کرنے اسکے کمرے میں آے
". ابھی بھی وہ بھابھی کو یہی کہ رہی تھی کہ اسے یہ نکاح نہیں کرنا ہے "۔
اچانک اسکی نظر چوکھٹ پر کھڑے ماموں پر پڑ ی تو خاموش ہو گئی۔
بھابھی نے اسکی نظرو ں کے تعاقب میں دیکھا تو عزیر شاہ کو کھڑے پایا۔ وہ خاموشی سے کمرے سے باہر چلی گئیں تو عزیر شاہ اندر آ ۓ
"کیا میں تمہارے باپ کے جیسا نہیں ہوں ؟ انھوں نےاس سے پوچھا
اسکا سرہاں میں ہلا تو انھوں نے مزید کہا
کیا میں تمہارے لئے کچھ غلط سوچ سکتا ہوں بیٹا ؟" خزینہ کا سر نفی میں ہل گیا تو انہوں نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا"۔
"تو بچے میں اپنی بیٹی کے لئے غلط فیصلہ کیسے کر سکتا ہوں ؟" انھوں نے اسے دیکھا اور پھر کہنے لگے
" میں مانتا ہونکہ یہ فیصلہ جلدی میں ہوا ہے۔ لیکن بیٹا تم دیکھنا یہ فیصلہ ایک بہترین فیصلہ ہوگا۔"
خزینہ کچھ بھی کہنے کے بجا ۓ روتی رہی۔
انہوں نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرا اور کمرے سے چلے گئے۔
تھوڑی دیر کے بعد شانزا بھابھی اندر آئیں ۔اور اسے کپڑے دے کر کہا
"جلدی سے پہنو۔"
وہ خاموشی سے کپڑے لے کر واش روم میں چلی گئی ۔تو بھابھی نے شکر کا سانس لیا۔
تھوڑی دیر کے بعد وہ شا ور لے کر واپس آئ تو بھابھی نے اسکے بال سلجھا کر کنگھا کیا۔
بال سوکھے نہیں تھے اسلئے کھلے چھوڑ دیے۔
وجیہہ اندر آئ اور کہا
"سکندر بھائی کہ رہے ہیں کے مولوی صاحب آ گئے ہیں۔اور وہ پوچھ رہے ہیں کہ مولوی صاحب کو لے کر آجاؤ ؟" تو منزہ بیگم نے کہا
" ہاں اسے بولومولوی صاحب کو لے آ ۓ ۔"وجیہہ باہر بتانے چلی گئی تو منزہ بیگم نے گم سم بیٹھی خزینہ کو ساتھ لگالیا ۔اور بھابھی نے سائیڈ پر رکھی ہوئی چادر اسے اڑا دی۔
تھوڑی دیر کے بعد مولوی صاحب کے ساتھ سکندر بھای,حسسام بھائی اندر آ ۓ اور سائن کرا کر چلے گئے۔
سائن کرنے کے بعد سے وہ گم سم سی بیٹھی تھی کہ لاؤنج سے مبارک کی آوازیں آنا شرو ع ہو گئیں۔
بھابھی اور باقی سب نے ساتھ لگا کر پیار کیا تو وہ روتی چلی گئی۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کے زندگی برباد ہوئی ہے یا بچ گئی ہے۔
اسنے بھابھی کو اشارے سے قریب بلایا
"میری طبیت خراب ہو رہی ہے"۔ تو بھابھی اسے حسینہ بیگم کے کمرے میں لے آئیں اور اسے دودھ کے ساتھ ٹیبلٹ دیں تو وہ سو گئی ۔
جب آنکھ کھلی تو نائٹ بلب آن تھا اور امی تسبیح پڑھ رہیں تھیں ۔
انہوں نے اسے اٹھتا دیکھا تو آگے بڑھ کر اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر بخار چیک کیا
"شکر ہے اب بخار نہیں ہے"۔ماں کو اپنی فکر کرتے دیکھ کر خزینہ پھر بلک بلک کر رونا شرو ع ہوئی۔
تو انہوں نے اسے سینے سے لگایا
"ابھی تم دونوں کو ہی یہ سب عجیب لگ رہا ہے۔ لیکن جب تم دونوں کی آنکھوں کے پردے ہٹیں گے تو یہ فیصلہ بہترین فیصلہ لگے گا."
----* ۔۔۔۔۔
دوسری طرف راہم نکاح پڑھوانے کے بعد اپنے فلیٹ واپس آگیا تھا۔
اسکے پیچھے شارب کو عبید شاہ نے بھیجا کے اسکے ساتھ رہو اور اسکا غصّہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرو۔
لیکن وہ اس سے بھی بات نہیں کر رہا تھا.
یہاں کا حال احوال بتانے کے لئے شارب نے عزیر شاہ کو کال کی۔سب سن کر انہوں نے کہا
"بیٹے پریشان نہ ہو۔وہ خود ٹھیک ہو جائے گا۔انھوں نے کہا
"لیکن چاچو" ۔۔۔ابھی شارب کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ انھوں نے کہا
"اچھا میں تمہیں بعد میں فون کرتا ہوں ۔"یہ کہ کر عزیر شاہ نے فون بند کر دیا۔
تو شارب ادھر سے ادھر مارچ کرنا شرو ع ہو گیا کے اب کس طرح راہم کو راضی کیا جائے ؟۔
لیکن کوئی آئیڈیا دماغ میں نہیں آرہا تھا۔
آخر تھک ہار کروہ بیڈ پر بیٹھ گیا اور دونوں ہاتھوں سے سر کو تھام لیا۔
۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔
اگلے دن شارب جب اپنے کمرے سے باہر آیا تو راہم لاؤنج میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔وہ بھی اسکے پاس جا کر بیٹھ گیا۔
اس نے ایک لمحے کے لئے شارب کی طرف دیکھا۔اور پھر ٹی وی دیکھنے لگ گیا۔
تو شارب نے ٹی وی پر نظریں جمائے جمائے بات شروع کی
"میں مانتا ہوں تمہارے ساتھ جو زبردستی ہوئ ہے وہ نہیں ہونی چاہے تھی۔ کیونکہ زبردستی کے بنے ہوے رشتے زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتے ۔اسلئے میں ز بردستی کے رشتوں کا قائل نہیں ہوں۔ لیکن جو کچھ بھی ہوا ہے اس میں میری کیا غلطی ہے ؟ مجھ سے کیوں روٹھے ہو ؟"
راہم نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اور کہا
"تم نے اپنے اور وجیہہ کے لئے اسٹینڈ کیوں نہیں لیا ؟تم چاہتے تو تم اسٹینڈ لے سکتے تھے۔
اسکی اس بات پر شارب نے اسے گھورا اور کہا
"میں لازمی بولتا اگر ایسا ویسا کچھ ہوتا.ابھی اتنا بغیرت نہیں ہو ا کہ جس لڑکی کو میں بہن بولتا رہا ہوں اسی کے ساتھ نکاح پڑھوا لیتا."راہم نے غصّے سے اسے دیکھا
" تو اس ٹائم کیوں نہ پھوٹے تم منہ سے کچھ؟ "
"کیونکہ میرے بھائی تم نے میرے کچھ کہنے سے پہلے ہی ہار ما ن لی تھی۔ اور نکاح کے لئے ہاں کر دی تھی تو اس میں میری کیا غلطی ؟" شارب نے معصومیت سے کہا
" تو راہم نے گود میں رکھا کشن اٹھا کر اسے مارا جسے اسنے کیچ کر لیا اور پھر راہم سے کہا
"میری اس سب میں کوئی خاص غلطی نہیں ہے ۔لیکن میں پھر بھی تم سے معافی مانگتا ہوں"۔
تو راہم نے بھی اٹھ کر اسے گلے لگا لیا ۔
کیونکہ اس سے زیادہ وہ بھی شارب سے ناراض نہیں رہ سکتا تھا ۔اور ناراض بھی اس بات پر جس میں شارب کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔
-----*۔۔۔۔۔۔
"اٹھو !شاپنگ کے لئے چلتے ہیں"۔اریج نے خزینہ سے کہا
"اریج آپی!میرا بلکل دل نہیں کر رہا ہے۔"خزینہ نے چادر ٹانگوں پر پھیلاتے ہوے کہا
"یہ محترمہ کہی چلی ہی نہ جائے"۔وجیہہ نے اندر آتے ہوے کہا .اریج نے چادر اسکے پاؤں پر سے کھینچتے ہوے کہا
"دو منٹ میں تیار ہو جاؤ ورنہ بہت برا کرونگی تمہارے ساتھ ۔"
"اریج آپی!خزینہ نے اسے آواز دی مگر وہ کمرے سے نکل چکی تھیں۔"
وجیہہ نے ایک نظر خزینہ کو دیکھا اور پھر کہا
"جلدی سے تیار ہو جاؤ !اگر آپی ناراض ہو گئیں تو انکو منانا بہت مشکل ہوگا۔"
خزینہ نے بے چارگی سے اسے دیکھا
اور اٹھ کر وارڈروب سے اپنی چادر نکالی۔وجیہہ نے حیران نظروں سے اسے دیکھا
"کیا ہوا ؟" خزینہ نے اسے اپنی طرف حیرت سے تکتا پا کر پوچھا
"بہن کپڑے بدل لو ورنہ لوگ کہیں گے فقیرنی آئی ہے."
وجیہہ نے جواب دیتے ہوے اسے الماری سے سوٹ نکال کر دیا۔
وہ مزید بحث کرنے کے بجائے سوٹ لے کر واش روم میں چلی گئی ۔
واپس آئ تو وجیہہ نے کہا
"چلو دیر ہو رہی ہے "
تو وہ بھی چادر کرتی ہوئی اسکے پیچھے کمرے سے نکل گئی۔
گاڑی میں بیٹھنے کے بعد وجیہہ نے اریج سے کہا
"گاڑی کیا منتر سے چلے گی "۔
کیونکہ ڈرائیونگ سیٹ اور فرنٹ سیٹ خالی تھیں۔
وہ تینوں پچھلی سیٹوں پر بیٹھی تھیں۔ابھی اریج نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کے شارب اور راہم گاڑی کی طرف آتے دکھائی دیئے۔
شارب آکر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا جبکہ راہم فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔
شارب نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوے کہا !
"میں اکیلا بور ہو جاتا ۔اسلئے میں نے سوچا کیوں نہ راہم کو بھی ساتھ لیا جائے میں کیوں اکیلا بور ہوتا پھروں راہم کو بھی بور ہونا چاہے۔ اسلئے اسے بھی ساتھ لے آیا."
شارب نے راہم کو چھیڑتے ہوے کہا
شارب کی بات پر اریج اور وجیہہ نے بے ساختہ قہقہہ لگایا۔
تو راہم نے تلملا کر شارب کو دیکھا
"بھائی وقت وقت کی بات ہے آج تیرا ہے کل میرا ہوگا۔چھوڑتا میں کسی کو بھی نہیں ہوں"۔راہم نے دانت پیستے ہوے کہا
ان دونوں کو ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے دیکھ کر اریج نے ہی دونوں کو چپ کرایا اور شارب سے کہا
"توجہ سے ڈرائیونگ کرو ہم نے شاپنگ مال جانا ہے ۔الله کے پاس نہیں جانا۔ہاے ابھی تو میرے بچے بھی چھوٹے ہیں اور دانیال تو فورن دوسری شادی کر لیں گے۔"
اریج نے دہائی دیتے ہوے کہا .
اسکی بات سن کر وجیہہ ,شارب,راہم کا قہقہہ بلند ہوا جبکہ خزینہ ان تینوں سے بے نیاز کھڑکی کی طرف منہ کیے بیٹھی رہی۔
اسی طرح کی الٹی سیدھی باتوں کے دوران وہ لوگ شاپنگ مال پہنچ گئے ۔
وجیہہ ,اریج اور وہ ڈریسز دیکھنے میں مگن ہو گئیں۔
جبکہ راہم اور شارب اپنی شاپنگ کرنے چلے گئے۔وہ کچھ دیر تو اریج لوگوں کے ساتھ گھومتی رہی۔
پھر اسے یاد آیا کہ "طیبہ کا برتھ ڈ ے آنے والا ہے ۔"
تو وہ انھیں بغیر بتاے گفٹ شاپ کی طرف چلی گئی۔
گفٹ خرید کر وہ وہاں آئ تو وہ لوگ وہاں نہیں تھے۔
اسے وہاں شارب,راہم ,وجیہہ,اریج کسی کا بھی چہرہ نظر نہیں آیا ۔
تو وہ لمحوں میں پسینہ پسینہ ہوگئی اور شاپ سے باہر نکل گئی۔
شاپ سے باہر نکلنے کے بعد وہ کچھ دیر تک لوگوں کو آتا جاتا دیکھتی رہی۔
وہ سوچ رہی تھی" کیا پتا یہی کہی ہو وہ لوگ" ۔
اچانک اسکی نظر ایک آدمی کی پشت پر پڑی تو اسے لگا کہ وہ راہم ہے۔
وہ راہم کہتے ہوے تیزی سے اسکی طرف بڑھی
اسی وقت اس بندے نے بھی چہرہ موڑ کر دیکھا
"تو وہ وہی کھڑی رہ گئی کیونکہ وہ راہم نہیں تھا".
"اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے لوگوں کی بھیڑ میں وہ تنہا رہ گئی ہو کیونکہ وہ اکیلی کبھی کہی نہیں جاتی تھی اور دوسرا اسے بھیڑ سے وحشت ہوتی تھی."
اچانک اسے کال کرنے کا خیال آیا
"اسنے جیسے ہی پرس کھولا تو موبائل نہیں تھا اسنے وہی کھڑے ہو کر برے طریقے سے رونا شرو ع کر دیا۔
"اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ بھیڑ میں گم ہو چکی ہے۔
اسے زیادہ یہ سوچ کر رونا آرہا تھا کہ وہ اب گھر کیسے جائے گی ؟
کیوں کے اسے گھر کے راستے کا علم نہی تھااورنہ ہی وہ کبھی اکیلی گھر سے باہر نکلی تھی۔
یہی بات اسے ڈر اور وحشت میں مبتلا کررہی تہی۔"
۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔
"اچانک اریج کو خیال آیا کہ خزینہ انکے ساتھ نہیں ہے۔"
اسنے وجیہہ کو بتایاتو وہ بھی پریشان ہو گئی۔
"ان لوگوں نے اسے ڈھونڈنا شرو ع کر دیا۔
راہم اور شارب اپنے لئے شرٹس لے رہے تھے وہ لوگ شرٹس لے کر انکے پاس آے اور کہا
"ہو گئی شاپنگ ؟پھر انکے چہروں کے اڑے ہوئے رنگ دیکھے تو پوچھا
" کیا ہوا ہے ؟ ہوائیاں کیوں اڑی ہیں ؟ "
"خزینہ پتا نہیں کہاں ہے"۔اریج نے بتایا
"ادھر ہی ہو گئی۔"شارب نے کہا
"نہیں ہے میں سب جگہ دیکھ چکی ہوں۔" وجیہہ نے روہانسے لہجے میں کہا
"اسے تو اکیلے گھومتے ہوے بھی خوف آتا ہے۔کیا ہوگا اسکا ۔"
اب کی دفعہ اریج نے کہا
تو وہ لوگ اسے گراونڈ فلور پر ڈھونڈنے لگے۔جب اسکا کوئی اتا پتا نہ چلا تو اریج اور وجیہہ رونا شرو ع ہو چکی تھیں۔
ان دونوں کی یہ حالت دیکھ کر راہم نے شارب سے کہا
"تم ان دونوں کو گاڑی میں بٹھا کر آ و۔ پھر مل کر اسے ڈھونڈتے ہیں ۔"
"ہم لوگ خود چلے جاتے ہیں تم لوگ اسے ڈھونڈ دو "۔اریج نے کہا
"کال کرو اسے "۔راہم نے شارب سے کہا
شارب نے کال کی۔جو کسی نے ریسیو نہیں کی۔
یار کوئی ریسیو نہیں کر رہا ہے۔اسنے بتایا
اس لڑکی کے پاس موبائل ہونا ہی نہیں چاہیے۔راہم نے غصے سے کہا
"شارب تم سیکنڈ فلور پر دیکھو۔میں ادھر دیکھتا ہو۔"راہم نے کہا تو وہ سر ہلاتا سیکنڈ فلور کی طرف بڑھ گیا۔
وہ کافی دیر ادھر سے ادھر گھومتا اسے ڈھونڈ رہا تھا ۔ اچانک وہ اسے گفٹ شاپ سے باہر کھڑی روتی ہوئی نظر آئی۔تو وہ فورن اسکے پاس گیا۔
اسکا دل کر رہا تھا کہ جاکر اسکی ٹھیک ٹھاک بے عزتی کرے۔اور اسی ارادے سے وہ اسکے پاس گیا۔ لیکن جیسے ہی وہ اسکے قریب گیا اور اسے پکارا تو خزینہ نے چونک کر اسے دیکھا
"اور اسکا بازو پکڑ کر زارو قطار روتی چلی گئی۔"
اسکے کچھ بولنے سے پہلے ہی وہ ہچکیوں کے دوران روتے ہوئے بولی
" میں گفٹ لینے ادھر آئی تھی ۔واپس گئی تو وہاں کوئی نہیں تھا ۔مجھے لگا آپ سب لوگ مجھے چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ کیونکہ میں آپ لوگوں پر ایک بوجھ کی طرح سوار ہو ۔اس لیے آپ لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ اور مجھ سے بیزار ہیں۔ لیکن یقین کریں میں کسی کے حصے کی محبت نہیں لینا چاہتی تھی۔وہ بغیر سوچے سمجھے بولی جارہی تھی ۔اتنے دنوں کا غبار تھا جو آج نکل گیا تھا۔"
جیسے جیسے وہ بولتی جارہی تھی راہم عجیب سی کیفیت سے گزر رہا تھا۔
"اسے آج معلوم ہو رہا تھاجس بات کو لے کر وہ اس سے چڑتا رہا اسی بات کو لے خزینہ خود سے بیزار تھی۔"
اچانک راهم کی نظر اس کے چہرے پر پڑی۔ اور وہ چند لمحوں تک اس کے چہرے سے نگاه نہیں ہٹا پایا۔
روئی روئی سی لال آنکھیں جن سے اب تک آنسو بہہ رہے تھے ۔وہ خاموش اور بہت گہری نگاہوں سے اسے دیکھتا رہا۔
"اور یہی وہ لمحہ تھا جب اس پر انکشاف ہوا کہ اس کا دل اس سے دغابازی کرچکا ہے۔"
راہم کچھ دیر ایسے ہی کھڑا اس احساس کو محسوس کرتا رہا۔
اچانک اس کا موبائل بجا تو وہ خیالوں سے باہر آیا اور خزینہ کو دیکھا۔وہ اب بھی زورو شور سے رو رہی تھی۔
اس نے کال ریسیو کی اور شارب کو کچھ بولنے کا موقع دے بغیر کہا
"خزینہ مل گئی ہے۔میں اسے پارکنگ کی طرف لیکر جا رہا ہوں۔تم بھی وہی آجاؤ ۔کہ کر کال بند کر دی"
اور کال بند کر کے وہ اسکی طرف متوجہ ہوا ۔اور کہا
"خزینہ چلو۔"
وہ ہنوز اسکا بازو مضبوطی سے پکڑے ہوے تھی۔
راہم نے تھوڑا جھک کر کھا !
"براے مہربانی میرا بازو چھوڑ دو۔"وہ اسکی بات سن کر جیسے حواسوں میں آئ اور اسکا بازو چھوڑ دیا۔
اب وہ دل ہی دل میں خود کوملامت کر رہی تھی کیا ضرورت تھی اتنا جذباتی پن دکھانے کی۔اب یہ کیا سوچتا ہوگا؟"وہ خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی ۔
راہم نے اسے وہی کھڑے دیکھا تو آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھاما۔اور اسے ساتھ لئے گاڑی کی طرف بڑھا۔
گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
اس نے اریج اور وجیہہ کو دیکھتے کے ساتھ ہی رہنا شروع کر دیا
راہم نے ایک نظر اسکی بہتی برسات کو دیکھا اور گہرا سانس لے کر پیچھے ہوا ۔
تب تک شارب بھی وہاں آچکا تھا۔
"چلو گھر چلتے ہیں۔ پہلے ہی بہت لیٹ ہو گئے ہیں۔"
وہ کہتا ہوا گاڑی کا دروازہ کھول کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا۔
شارب نے بھی آگے بڑھ کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور گاڑی اسٹارٹ کر دی۔
تھوڑی دیر کے بعد وہ لوگ گھر میں موجود تھے۔
گھر جا کر وہ اپنے کمرے میں چلی گئی اور رات کے کھانے پر بھی باہر نہ آئی۔
خزینہ کہاں ہے؟ کھانے کی میز پر سب سے پہلے عزیر شاہ نے پوچھا ۔
وہ آج ہم باہر گئے تھے تو وہاں فاسٹ فوڈ کھایا تھا۔اسلئے خزینہ کو بھوک نہیں ہے۔اریج نے بہانہ کر دیا ۔جسے سن کر سب مطمئن ہو گئے ۔
لیکن شارب کے دل میں خیال آیا کہیں راہم نےخزینہ کو نہ ڈانٹا ہو ۔کیونکہ نکاح کے بعد سے وہ خزینہ کو کاٹ کھانےکو ڈورتا تھا۔چھوڑتا تو وہ اسے پہلے بھی نہیں تھا۔لیکن اب تو جیسے اسے وہ آگ چبائے رکھتا تھا۔
یہ سوچتے ہوے شارب نے راہم سے پوچھنے کا ارادہ کیا۔
۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔
کھانے کے جب سب لوگ اپنے کمروں میں چلے گئے تو شارب راہم کے کمرے کی طرف چلا آیا۔
اسنے دروازہ ناک کیا اور کہا
"کیا میں اندر آسکتا ہوں ؟"
راہم نے شارب کو دروازے پر کھڑا دیکھا تو مسکراتے ہوے کہا
"بکواس نہ کر۔آجا اندر ۔"
وہ اندر اندر آگیا۔ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد شارب نے راہم سے پوچھا۔
" تم نے آج خزینہ کو کچھ کہا تھا ؟ "
راہم نے حیران نگاہوں سے اسے دیکھا اور اپنی طرف اشارہ کے کہا
"میں اسے کیوں ڈانٹوں گا ؟"
اور اپنا چہرہ چھپانے کے لئےاٹھ کرالماری میں کچھ ڈھونڈنےلگا۔
شارب نے اسکیکی خجالت کو محسوس کر لیا تھا۔فورن جاکر اسے اس کی پشت سے پکڑا
"او لالے! کہیں دل کی واردات تونہیں ہو
گئی ؟" ایک آنکھ دبا کر شارب نے راہم سےکہا
"تو وہ ہنسنے لگ گیا اگرہوبھی گئیہے توکیا برا ہے ؟منکوحہ ہے میری۔حق ہے میرا اس پر۔"راہم نے کہا
شارب کو تو سن کراچھوں لگ گیا
"کب سے ہے یہ سین؟" راحم سے شارب نے پوچھا
"یار آج هی بس۔لمحوں کی بات تھی۔مجھے خود نہیں پتا چلا کہ یہ کیا ہواہے۔میں جس سےچڑتا تھا اسی سے محبت کر بیٹھاہوں۔"راہم نے کہا توشارب نے ہنستے ہوئے کہا
"مطلب بیٹا تم تو گئے کام سے۔"راہم بھی ہنسنے لگ گیا۔
تو شارب نے اسے خوش دیکھ کر سینے سے لگا لیا۔ہمیشہ خوش رہو۔
"ویسے رخصتی کب کراؤگے"۔اسنے راہم سے پوچھا
"مجھے نہیں پتا یار بابا سے کیسے بات کروں"؟ راهم نے الجھتے ہوئے کہا
"اسی منہ سے کرو جس سے بكواس کر رہے ہو۔"شارب نے اسے مشورہ دیا۔اور پهر دونوں ہنستے چلے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دنوں کے بعد راہم کو اسکے آفس والے قطر بھیج رہے تھے۔
راہم نے عزیر شاہ سے رخصتی کی بات کی۔ وہ کچھ دیر تو غور سے اسے دیکھتے رہے۔اور پھر کہا
"تم میری بچی کو پریشان کرو گے۔میں كیسے تم پر یقین کروں ؟"
وہ ان کا جواب سن کر چڑ گیا ۔
"آپ کی بچی میری منکوحہ ہے ۔کیوں پریشان کروں گا اسے۔
آپ پھوپھو سے بات کریں۔میں اکیلا وہاں رہنے نہیں جانا چاہتا۔"اسنے اپنے ازلی ضدی لہجے میں کہا
"عزیرشاہ اس كی بات پر مسکراہٹ دبا کر بولے۔ شرم تو نہیں آرہی ہو گی باپ سے ایسی بات کر رہے ہو۔"
وہ بھی انہی کا بیٹا تھا ۔
"ہاں تو اپنے حق کے لئے لڑ رہا ہو ۔"راہم نے جواب دیا
عزیر صاحب ایک دم کھڑے ہوے اور اسے سینے سے لگا کربہرائی ہوئی آواز میں کہا
"مجھے خوشی ہے کے تمنے میرا مان رکھا ۔"
راہم جو ہمیشہ وہی کرتا تھا جس بات کے عزیر شاہ خلاف ہوتے تھے۔ آج وہی راهم باپ کی بھرائی آواز سن کر رونے والا ہو گیا۔"بابا ایم سوری"
اس نے باپ کے ساتھ لگے لگے هی کہا "تو انہوں نے اپنی گرفت اس کے گرد اور مضبوط كردی۔"
باہر سے شہناز بیگم کی آواز آ رہی تھی ۔جیسے وہ اس کمرے میں آ رہی ہوں ۔تو وه باپ بیٹا ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔
رات عزیر اور عبید صاحب نے حسینہ بیگم سےرخصتی کی بابت بات کی کہ
"راهم کی خواہش ہے کہ وہ خزینہ کو ساتھ لے کر جائے"۔
جسے سن کر حسینہ بیگم نے کہا
" بھائی صاحب وہ آپ لوگوں ہی کی امانت ہے۔ لیکن میں ایک دفعہ رسمی طور پرخزینہ سے پوچھ لوں ۔ کہیں اسے ایسا نہ لگے کہ ہم اسکے ساتھ زبردستی کر رہے ہیں"۔
عزیر اور عبید نے فورااثبات میں سر ہلادیا۔
رات کھانے کے بعد حسینہ بیگم خزینہ کے کمرے میں گئیں۔
"امی!کیا ہوا"؟.آپ مجھے بلوالیتی.خزینہ نےانھیں اندر آتے دیکھا تو کہا
"کچھ نہیں بچے تم سے بات کرنی تھی تو آگئی۔ "حسینہ بیگم نے جواب دیا
"ہاں کیا بات کرنی تھی آپ نے "؟خزینہ نے پوچھا
"وہ راہم کو اس کے آفس والے چھ ماه کے لیے قطر بھیج رہے ہیں۔ تو بھائی صاحب چاہتے ہیں کہ رخصتی ہو جائے تاکہ وہ تمہیں بھی ساتھ لے جائے"۔حسینہ بیگم نے کہا
"آپنے ماموں کو کیا جواب دیا" خزینہ نے پوچھا
"میں یہی تم سے پوچھنے کے لئے آئی ہوں کہ اگر تم تیار ہو تو رخصتی کے لیے ہاں کردوں۔تاکہ میں اپنے فرض سے سبکدوش ہوجاو"۔ حسینہ بیگم نے کہا
"امی" !حزینہ نے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا!
"راہم اس شادی سے خوش نہیں ہے۔اس نے مجھ سے نکاح بھی ماموں کی وجہ سے کیا ہے ۔اور اب ماموں پھر اسکے ساتھ زبردستی کر رہے ہیں ۔نکاح کے وقت تو صورتحال ایسی تھی کہ کوئی کچھ بول نہیں پایا ۔لیکن اب آپ ناں کردیں۔ راہم کو بھی حق ہے زندگی جینے کا. آپ بسماموں کو ناں کر دیں۔ بول دیں خزینہ ابھی نہیں چاہتی "۔
حسینہ بیگم نے بغور اس کی ساری باتیں سنیں اور اسے بتانا چاہا کہ راهم کی بھی یہی خواہش ہے۔لیکن وہ انکی بات سننے کے بجائے اپنی ہی کہی جا رہی تھی۔
"میں نہیں کروانا چاہتی رخصتی"۔وہ کہتے ہوئے رونا شروع ہوگئی۔تو حسینہ بیگم نے اپنے ساتھ لگا لیا۔
راحم جو کسی کام کے سلسلسے میں حسینہ بیگم کو ڈھونڈتا خزینہ کے کمرے میں آیا تھا ۔اس سے پہلے کہ وہ دروازہ کھولتا ۔اس نے اتفاق سے خزینہ کی کہی تمام باتیں سن لیں۔ اور دروازہ کھول کر اندر کمرے میں آ گیا ۔
اسنے ایک نظر خزینہ کو دیکھا جو ابھی تک حسینہ بیگم کے ساتھ لگی رورہی تھی۔
"پھوپھو کیا میں اس سے اکیلے میں بات کر سکتا ہوں؟"راہم نے کہا
تو انھوں نے سر ہلا دیا۔اور اٹھ کر کمرے سے باہر چلی گئیں۔"
وہ چاہتی تھیں کہ دونوں آپس میں بات کر لیں تاکہ بدگمانی ختم ہو۔کیونکہ خزینہ کی دل میں را ہم کے لئے بہت بد گمانی تھی۔"
حسینہ بیگم کے وہاں سے جاتی ہی راہم کچھ دیر کھڑا اسے گھورتا رہا پھر کہا
" کیا بكواس کی تھی پھوپھو کے سامنے؟مجھ سے رخصتی نہیں کروانا چاہتی کیونکہ میں تمہیں ناپسند کرتا ہوں؟" .وہ غصے سے پوچھنے لگا
بولتے بولتے اس کی آواز اونچی ہوتی جا رہی تھی۔راہم کا غصہ دیکھ کر خزینہ کی ٹانگیں کپکپانے لگی تھیں ۔
اس سے پہلے کہ اس کی ٹانگیں اس کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیتیں وہ بیڈ پر بیٹھ گئی۔
راحم نے اس کا چہرہ دیکھا جو پیلا ہو رہا تھا۔
راحم نے گہرا سانس لے کر خود کو کمپوز کیااور کہا
" یہ سچ ہے کہ نكاح زبردستی ہوا تھا۔یہ بھی سچ ہے کہ میں تم سے چڑتا تھا ۔کیونکہ ماما بابا تم سے زیادہ پیار کرتے تھے۔انہوں نے ہمیشہ تمھے مجھ پر اولیت دی۔اس بات کی وجہ سے میں ہمیشہ بابا سے ناراض رہا اور تم سے چڑتا رہا۔ لیکن آج بہت سالوں بعد مجھے سمجھ آیا کہ بابا تمہیں اس لیےاولیت دیتے تھے تاکہ تمہارے اندرسے احساس کمتری ختم ہوجائے اور میں اسے غلط لیتا رہا"۔
"ہر انسان کی اپنی جگہ ہوتی ہے۔ہر انسان کی اپنی کچھ عادتیں ہوتی ہیں جنکی وجہ سے وہ لوگوں کے دلوں میں گھر کر جاتا ہے۔"مجھے پہلے یہ بات نہیں سمجھ آتی تھی کہ جو تمہاری جگہ ہے ان کے دل میں وہ میری نہیں ہو سکتی ۔اور جو میری جگہ ہےان کے دل میں وہ تمہاری نہیں ہوسکتی۔"راہم نے کہا وہ سر جھکائے بیٹھی اسے سن رہی تھی۔
" تم مجھےپوزیسیو فطرت کا کہہ سکتی ہو۔میں اپنے سے لنک ہر رشتےکو اور ہر بندے کو اپنی پراپرٹی سمجھتا ہوں۔
تمہارا آئندہ زندگی میں بھی میری اس عادت سے واسطہ پڑے گا اور تم پریشان بھی ہوگی۔"
"لیکن کیا تم مجھے میری اچھی بری عادتوں سمیت قبول نہیں کر سکتی؟"راہم نے کہا
"بابا اور ماما کہتے ہیں خذینہ بہت بڑے دل والی ہے۔توکیا میرے لئے تمہارے دل میں جگہ بن سکتی ہے ؟"
خزینہ جو منہ کھولے اس کی باتیں سن رہی تھی اس کی اس بات پر چہرہ جھكا گئی۔
وہ اس کا شرم سے لال چہرہ دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔
"تم نے بتایا نہیں پھر کیا میرے لئے تمہارے دل میں جگہ بن سکتی ہے؟"
را ہم نے شرارت سےاس کی طرف جھكتے ہوئے پوچھا
تو خزینہ نے بلاارادہ راحم کا چہرہ دیکھا۔جسکی آنکھوں میں شرارت صاف نظر آرہی تھی.
وہ ایک قدم اور آگے بڑھا۔
اور اپنی ہتھیلی خزینہ کی طرف بڑھائی توخزینہ نے ایک نظر اس کی پھیلی ہتھیلی کو دیکھا اور اپنا ہاتھ اسکی ہتھیلی پر رکھ دیا ۔
تو وہ خوشی سے جھوم اٹھا۔اور پھر اس کے ہاتھ پر ہلکا سا دباؤ ڈالتے ہوئے کہا
" اب تو کوئی اعتراض نہیں ہے نہ رخصتی پر" تو خزینہ نے اپنا ہاتھ ایک جھٹکے سے چھڑوا یا اور بھاگتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔
اور پھر دروازے سےمنہ اندر کرکےمسکراتے ہوئے کہا
"نہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔"راہم اس کا جواب سن کر بے ساختہ ہنستا چلا گیا۔
خزینہ کی مسکراہٹ اس کی خوشی کا پتہ دے رہی تھی۔
" راهم نے دل میں خود سے عہد کیا کہ اس کی ہونٹوں سے اس مسکراہٹ کو کبھی جدا نہیں ہونے دے گا "۔
اور وہ بھی مسکراتا ہوا حسینہ بیگم کوخزینہ کا جواب بتانے چلا گیا ۔کیونکہ اسے مزید دیر نہیں کرنی تھی اسے یقین تھا کہ وه خزینہ کے ساتھ زندگی کو خوشیوں کو ہر لمحہ کشید کرے گا۔

0 Comments